Emotional Islamic Story in Urdu - Sabak Amoz Sachi Kahani

Emotional Islamic Story in Urdu - Sabak Amoz Sachi Kahani

"رحمت کے ہاتھ"
سبق آموز سچی کہانی

پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر میں "عبدالرحمن صاحب" رہتے تھے۔ نہ بیوی، نہ اولاد، نہ کوئی وارث۔ پیشے سے وہ ایک سادہ سے کمپاؤنڈر تھے۔ سرکاری ہسپتال میں رات کی شفٹ لگاتے اور دن کو ایک کمرے کے مکان میں رہتے۔
30 سال پہلے ایک سردیوں کی رات وہ ڈیوٹی سے لوٹ رہے تھے۔ سڑک کنارے یتیم خانے کے باہر ایک بوری رکھی تھی۔ پاس گئے تو اندر سے سسکیوں کی آواز آئی۔ بوری کھولی تو 3 ننھی بچیاں تھیں - سب سے بڑی 5 سال کی، سب سے چھوٹی 6 ماہ کی۔ تینوں ٹھٹھر رہی تھیں، بخار سے تپ رہی تھیں۔ ساتھ ایک پرچی تھی: "ہم غریب ہیں۔ پال نہیں سکتے۔ خدا کے لیے ان کو بچا لیں۔"
عبدالرحمن صاحب کا دل پگھل گیا۔ وہ تینوں کو گھر لے آئے۔ بیوی تو تھی نہیں، تو ماں بن کر خود پالا۔ ہسپتال سے آ کر پہلے ان کا بخار چیک کرتے، دودھ پلاتے، پھر سوتے۔
وقت کے ساتھ خبر پھیلی کہ "رحمن صاحب یتیم بچیوں کو رکھتے ہیں"۔ پھر ایک آئی، پھر دو۔ لوگ ان کے دروازے پر بچیاں چھوڑ جاتے۔ کوئی کہتا "میری بیٹی کو کینسر ہے، علاج نہیں کروا سکتا"۔ کوئی کہتا "بیٹی پیدا ہوئی ہے، گھر والے مار دیں گے"۔
عبدالرحمن صاحب نے کبھی انکار نہیں کیا۔ 10 سال میں ان کے 2 کمروں کے گھر میں 27 بچیاں ہو گئیں۔ عمر 6 ماہ سے 12 سال تک۔
سب سے مشکل کام تھا بیماری۔ یتیم خانے سے آنے والی بہت سی بچیاں کمزور، خون کی کمی، نمونیا، جلد کی بیماریاں لے کر آتیں۔ سرکاری ہسپتال میں لمبی لائنیں، مہنگی دوائیں۔
تو عبدالرحمن صاحب نے اپنی کمپاؤنڈری کا علم استعمال کیا۔ ڈاکٹروں سے سیکھ کر، ان کی اجازت سے، وہ بیمار بچیوں کی دیکھ بھال کرتے۔ بخار ہو تو پٹی رکھتے، زخم ہو تو پٹی باندھتے، ڈاکٹر کے بتائے ہوئے ٹیکے وقت پر لگاتے۔ رات رات بھر جاگ کر بچیوں کا بخار اتارتے۔ ان کا ماننا تھا: "اگر میں ایک بچی بھی بچا گیا تو میری زندگی کامیاب ہے۔"
لوگ طعنے دیتے: "کنوارے آدمی، 27 لڑکیاں پال رہا ہے۔ نیت کیا ہے؟" عبدالرحمن صاحب بس مسکرا دیتے۔ بچیوں کو پڑھاتے، سلائی سکھاتے، عزت سے رکھتے۔
ایک بار محلے میں وبا پھیلی۔ 8 بچیاں ایک ساتھ بیمار ہو گئیں۔ ڈاکٹر نے کہا "ان کو ہسپتال لے جاؤ"۔ لیکن ہسپتال میں جگہ نہیں تھی۔ عبدالرحمن صاحب نے 15 دن تک نہ خود سویا نہ بچیوں کو سونے دیا۔ ہر 2 گھنٹے بعد دوا، ہر 1 گھنٹے بعد پانی کی پٹی۔ ڈاکٹر روز آ کر چیک کرتے اور کہتے: "رحمن، تم ڈاکٹر نہ سہی، فرشتہ ضرور ہو۔"
آہستہ آہستہ وہ 27 بچیاں جوان ہوئیں۔ عبدالرحمن صاحب نے ایک کی شادی کی۔ جہیز کے لیے خود سائیکل بیچ دی، گھڑی بیچ دی۔ رخصتی کے وقت ہر بچی کے ہاتھ پر 500 روپے رکھ کر کہتے: "بیٹا، یہ تمہاری امی کی طرف سے ہے۔ کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا۔"
آج عبدالرحمن صاحب اس دنیا میں نہیں رہے۔ لیکن ان کی 27 بیٹیاں ہیں۔ ان کے 80 سے زیادہ پوتے پوتیاں ہیں۔ شہر کا سب سے بڑا یتیم خانہ آج "رحمت منزل" کے نام سے چلتا ہے، جس کی بنیاد انہوں نے رکھی تھی۔
گزشتہ سال ان کی سب سے بڑی بیٹی، جو 6 ماہ کی حالت میں بوری میں ملی تھی، ڈاکٹر بن گئی۔ اس نے شہر کے غریب وارڈ کا چارج سنبھالا ہے۔ وہ روز مریضوں سے کہتی ہے: "میرے ابو کہتے تھے - انسان کا مذہب انسانیت ہے۔ اور انسانیت یہ ہے کہ جو بیمار ہو، اس کا ہاتھ تھام لو۔"
1. رشتہ خون سے نہیں، خدمت سے بنتا ہے۔
2. دنیا بدلنے کے لیے دولت نہیں، بڑا دل چاہیے۔
3. ایک انسان کی ہمدردی، درجنوں زندگیاں سنوار سکتی ہے۔
عبدالرحمن صاحب نے ثابت کر دیا کہ یتیم بچی بوجھ نہیں، رحمت ہوتی ہے۔ بس اس رحمت کو پہچاننے والی آنکھ چاہیے۔
نوٹ: یہ کہانی ایک حقیقی جذبے پر مبنی ہے۔ طبی علاج ہمیشہ مستند ڈاکٹر کے مشورے اور نگرانی میں ہی کروانا چاہیے۔

مکمل پڑھنے کے لئے کلک کریں