شوہر اور بیوی کی پیاری کہانی
مدینہ کے ایک محلے میں یوسف اور فاطمہ رہتے تھے۔ یوسف کھجور کے باغ میں مزدوری کرتے۔ کماتے، لیکن شکر بہت کرتے۔ فاطمہ گھر سنبھالتی، قرآن پڑھتی، اور ہر حال میں شوہر کا ساتھ دیتی۔
1. بھوک والا امتحان
ایک بار 3 دن تک گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ فاطمہ نے شوہر کے سامنے کبھی شکایت نہ کی۔ چوتھے دن یوسف شام کو 2 روٹیاں لے کر آئے۔ آدھی روٹی فاطمہ کی پلیٹ میں رکھ کر بولے: "بیوی، تم کھا لو۔ میں نے باغ میں کھا لیا تھا۔"
ایک بار 3 دن تک گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ فاطمہ نے شوہر کے سامنے کبھی شکایت نہ کی۔ چوتھے دن یوسف شام کو 2 روٹیاں لے کر آئے۔ آدھی روٹی فاطمہ کی پلیٹ میں رکھ کر بولے: "بیوی، تم کھا لو۔ میں نے باغ میں کھا لیا تھا۔"
فاطمہ نے روٹی توڑ کر آدھی واپس شوہر کی پلیٹ میں رکھ دی اور مسکرا کر بولی: "نبی کریم ﷺ کی بیویاں بھی ایسے ہی ایک دوسرے کو ترجیح دیتی تھیں۔ ہم دونوں مل کر کھائیں گے۔ اللہ برکت دے گا۔"
دونوں نے آدھی آدھی روٹی کھائی، پانی پیا، اور سجدے میں شکر ادا کیا۔ اسی رات محلے کے ایک مالدار نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ بولا: "میرے باغ میں آج بہت کھجوریں گریں، میں اکیلا نہیں کھا سکتا۔ یہ آپ دونوں کے لیے ہیں۔"
یوسف کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ فاطمہ نے کہا: "دیکھا؟ اللہ صبر کرنے والوں کو کبھی بھوکا نہیں سوتا۔"
2. غصے کا علاج
ایک دن یوسف کام سے تھکے ہارے آئے۔ فاطمہ سے چھوٹی سی بات پر غصے سے بولے: "تمہیں گھر کا کوئی کام ٹھیک سے نہیں آتا!"
فاطمہ خاموش ہو گئی۔ نہ جواب دیا، نہ بحث کی۔ وضو کیا، جائے نماز بچھائی، اور آہستہ سے بولی: "یا اللہ، میرے شوہر کو سکون دے دے۔ شیطان کو ہم دونوں سے دور رکھ۔"
5 منٹ بعد یوسف کو خود شرمندگی ہوئی۔ وہ فاطمہ کے پاس آ کر بولے: "معاف کر دو۔ تھکاوٹ کی وجہ سے زبان پھسل گئی۔"
فاطمہ نے مسکرا کر کہا: "میرے نبی ﷺ فرماتے ہیں: 'تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے۔' آپ میرے لیے بہترین ہیں۔ غصہ تو شیطان کا وار تھا، ہم نے اسے صبر سے ہرا دیا۔"
اس دن کے بعد یوسف نے قسم کھائی: کبھی بیوی پر آواز بلند نہیں کروں گا۔
3. عزت کا رشتہ
محلے کی عورتیں فاطمہ سے پوچھتیں: "تمہارا شوہر تمہاری اتنی عزت کیوں کرتا ہے؟"
فاطمہ کہتیں: "میں اس کی عزت کرتی ہوں۔ وہ جب گھر آتے ہیں تو میں دروازے پر مسکرا کر استقبال کرتی ہوں۔ ان کے جوتے سیدھے رکھ دیتی ہوں۔ ان کے سامنے کبھی ماضی کی باتیں نہیں دہراتی۔ اور سب سے بڑھ کر - میں ان کے ماں باپ کی عزت کرتی ہوں، کیونکہ جنت ان کے قدموں میں ہے۔"
یوسف بھی دوستوں سے کہتے: "فاطمہ میری بیوی کم، نعمت زیادہ ہے۔ وہ میری غلطیاں ڈھانپتی ہے، مجھے نماز کے لیے جگاتی ہے، اور میرے گناہوں پر پردہ ڈالتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: 'دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے۔' مجھے وہ متاع مل گئی۔"
کہانی کا سبق / Moral:
1. میاں بیوی ایک لباس ہیں - ایک دوسرے کی عیب چھپاؤ، عزت بڑھاؤ۔ قرآن: "هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ" البقرہ 187
2. شکر + صبر = گھر میں برکت۔ شکایت سے رزق تنگ، شکر سے رزق وسیع ہوتا ہے۔
3. غصے کا جواب خاموشی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "غصہ مت کرو"۔
4. رشتہ محبت سے نہیں، قربانی سے مضبوط ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو ترجیح دو، اللہ تمہیں ترجیح دے گا۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "مومن مرد مومن عورت سے بغض نہ رکھے۔ اگر اس کی ایک عادت بری لگے تو دوسری عادت اچھی لگے گی۔" مسلم
اللہ ہر گھر کو یوسف اور فاطمہ جیسا بنا دے۔ آمین۔
دونوں نے آدھی آدھی روٹی کھائی، پانی پیا، اور سجدے میں شکر ادا کیا۔ اسی رات محلے کے ایک مالدار نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ بولا: "میرے باغ میں آج بہت کھجوریں گریں، میں اکیلا نہیں کھا سکتا۔ یہ آپ دونوں کے لیے ہیں۔"
یوسف کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ فاطمہ نے کہا: "دیکھا؟ اللہ صبر کرنے والوں کو کبھی بھوکا نہیں سوتا۔"
2. غصے کا علاج
ایک دن یوسف کام سے تھکے ہارے آئے۔ فاطمہ سے چھوٹی سی بات پر غصے سے بولے: "تمہیں گھر کا کوئی کام ٹھیک سے نہیں آتا!"
فاطمہ خاموش ہو گئی۔ نہ جواب دیا، نہ بحث کی۔ وضو کیا، جائے نماز بچھائی، اور آہستہ سے بولی: "یا اللہ، میرے شوہر کو سکون دے دے۔ شیطان کو ہم دونوں سے دور رکھ۔"
5 منٹ بعد یوسف کو خود شرمندگی ہوئی۔ وہ فاطمہ کے پاس آ کر بولے: "معاف کر دو۔ تھکاوٹ کی وجہ سے زبان پھسل گئی۔"
فاطمہ نے مسکرا کر کہا: "میرے نبی ﷺ فرماتے ہیں: 'تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے۔' آپ میرے لیے بہترین ہیں۔ غصہ تو شیطان کا وار تھا، ہم نے اسے صبر سے ہرا دیا۔"
اس دن کے بعد یوسف نے قسم کھائی: کبھی بیوی پر آواز بلند نہیں کروں گا۔
3. عزت کا رشتہ
محلے کی عورتیں فاطمہ سے پوچھتیں: "تمہارا شوہر تمہاری اتنی عزت کیوں کرتا ہے؟"
فاطمہ کہتیں: "میں اس کی عزت کرتی ہوں۔ وہ جب گھر آتے ہیں تو میں دروازے پر مسکرا کر استقبال کرتی ہوں۔ ان کے جوتے سیدھے رکھ دیتی ہوں۔ ان کے سامنے کبھی ماضی کی باتیں نہیں دہراتی۔ اور سب سے بڑھ کر - میں ان کے ماں باپ کی عزت کرتی ہوں، کیونکہ جنت ان کے قدموں میں ہے۔"
یوسف بھی دوستوں سے کہتے: "فاطمہ میری بیوی کم، نعمت زیادہ ہے۔ وہ میری غلطیاں ڈھانپتی ہے، مجھے نماز کے لیے جگاتی ہے، اور میرے گناہوں پر پردہ ڈالتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: 'دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے۔' مجھے وہ متاع مل گئی۔"
کہانی کا سبق / Moral:
1. میاں بیوی ایک لباس ہیں - ایک دوسرے کی عیب چھپاؤ، عزت بڑھاؤ۔ قرآن: "هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ" البقرہ 187
2. شکر + صبر = گھر میں برکت۔ شکایت سے رزق تنگ، شکر سے رزق وسیع ہوتا ہے۔
3. غصے کا جواب خاموشی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "غصہ مت کرو"۔
4. رشتہ محبت سے نہیں، قربانی سے مضبوط ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو ترجیح دو، اللہ تمہیں ترجیح دے گا۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "مومن مرد مومن عورت سے بغض نہ رکھے۔ اگر اس کی ایک عادت بری لگے تو دوسری عادت اچھی لگے گی۔" مسلم
اللہ ہر گھر کو یوسف اور فاطمہ جیسا بنا دے۔ آمین۔


