امریکی ریاست مشی گن کے انرجی سیکٹر اور عوامی حلقوں سے جون 2026 کے آغاز میں ایک انتہائی اہم اور بجلی کے صارفین کو متاثر کرنے والی خبر سامنے آئی ہے۔ نیوز کی تازہ ترین علاقائی رپورٹس کے مطابق، مشی گن کی بڑی یوٹیلٹی کمپنی کنزیومرز انرجی (Consumers Energy) نے ریاستی ریگولیٹرز سے ریکارڈ 456 ملین ڈالر کے بجلی نرخوں میں اضافے (Seeking $456M Rate Hike) کی باقاعدہ منظوری مانگ لی ہے، جس پر عوامی اور حکومتی سطح پر شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔
سی بی ایس نیوز ڈیٹروئیت (CBS News Detroit) کی خصوصی ویڈیو رپورٹ کے مطابق، مشی گن کی اٹارنی جنرل ڈانا نیسل (Michigan AG) نے عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے اس معاملے میں فوری مداخلت کی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کنزیومرز انرجی کی 456 ملین ڈالر کی اس بھاری تجویز کے خلاف قانونی محاذ کھولتے ہوئے ریگولیٹری باڈی (MPSC) کے سامنے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے خاندانوں پر بجلی کے بلوں میں مزید اضافہ کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے کمپنی کے اس مطالبے کو حد سے زیادہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس میں بڑی کٹوتی کی وکالت کی ہے۔
دوسری طرف، فوکس 17 آن لائن (FOX 17 Online) کی ایک گراؤنڈ رپورٹ کے مطابق، ایسٹ گرینڈ ریپڈز، فارسٹ ہلز اور کیسکیڈ کے علاقوں میں جیسے ہی گرمیوں کے مہنگے بجلی کے نرخ (Summer Electricity Rates) لاگو ہوئے ہیں، مقامی خاندانوں میں شدید تشویش پھیل گئی ہے۔ موسمِ گرما کی آمد کے ساتھ ہی ائیر کنڈیشنرز کے استعمال کی وجہ سے بلوں میں پہلے ہی اضافہ ہو جاتا ہے، اور اب اس نئے مجوزہ ریٹ ہائیک نے صارفین کو بلوں میں کٹوتی کرنے اور توانائی بچانے کے متبادل طریقے ڈھونڈنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرینِ اسمارٹ انرجی اب شہریوں کو پیک آورز (Peak Hours) کے دوران بجلی کا استعمال کم کرنے کے مشورے دے رہے ہیں۔
جون 2026 میں مشی گن کی توانائی کی سیاست اور عوامی بجٹ کے لیے یہ کیس ایک بڑا معرکہ بن چکا ہے۔ کنزیومرز انرجی کا کہنا ہے کہ وہ یہ فنڈز گرڈ کی بہتری اور کلین انرجی کے منصوبوں کے لیے حاصل کرنا چاہتی ہے، جبکہ پبلک ایڈووکیٹس اس کی ٹائمنگ اور حجم پر نالاں ہیں۔ اب تمام نظریں مشی گن پبلک سروس کمیشن کے حتمی فیصلے پر لگی ہیں کہ آیا وہ کمپنی کو اس 456 ملین ڈالر کے اضافے کی اجازت دیتا ہے یا اٹارنی جنرل کی مداخلت کے بعد صارفین کو ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔

