شہر سے باہر ایک جدید اور نئے اسٹیڈیم کی تعمیر کے منصوبے پر تیزی سے کام شروع
امریکی اسپورٹس انڈسٹری، نیشنل فٹ بال لیگ اور شیکاگو کے کھیلوں کے حلقوں سے جون 2026 کے آغاز میں ایک انتہائی حیران کن اور بڑی جیو پولیٹیکل کھیل کی خبر سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین بریکنگ رپورٹس کے مطابق، شیکاگو بیئرز فٹ بال ٹیم اپنے روایتی ہوم گراؤنڈ کو چھوڑ کر ریاست انڈیانا منتقل ہونے کے بہت قریب پہنچ گئی ہے۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ نے شیکاگو شہر سے باہر ایک جدید اور نئے اسٹیڈیم کی تعمیر کے منصوبے پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس اور اے بی سی 7 شیکاگو کی خصوصی رپورٹس کے مطابق، شیکاگو بیئرز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایک اہم اجلاس کے دوران نارتھ ویسٹ انڈیانا کے شہر ہیمنڈ میں اسٹیڈیم کی ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے حق میں باقاعدہ ووٹ دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کے اس فیصلے کے بعد ٹیم کی شیکاگو سے منتقلی کی افواہیں اب حقیقت کا روپ دھارنے لگی ہیں۔ ہیمنڈ انڈیانا کی مقامی انتظامیہ نے بیئرز کو ایک شاندار میگا اسٹیڈیم اور کمرشل حب بنانے کے لیے انتہائی پرکشش ٹیکس مراعات اور زمین دینے کی پیشکش کی ہے، جس نے ٹیم کے مالکان کو شیکاگو کا تاریخی سولجر فیلڈ اسٹیڈیم چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یو ایس اے ٹوڈے اور ای ایس پی این کی رپورٹس کے مطابق، اس ممکنہ منتقلی نے شیکاگو کے میئر اور الینوائے کے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ شیکاگو کے میئر نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیئرز شیکاگو کی ثقافت اور معیشت کا ایک لازمی حصہ ہیں، اور وہ ٹیم کو شہر کے اندر ہی رکھنے کے لیے آخری وقت تک مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، بیئرز انتظامیہ طویل عرصے سے شیکاگو میں اسٹیڈیم کے ڈھانچے کی تزئین و آرائش اور فنڈنگ کے مسائل پر مقامی حکومت سے ناخوش تھی، اور انڈیانا کی جانب سے ملنے والی تیز رفتار منظوریوں نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔
جون 2026 میں شیکاگو بیئرز کا انڈیانا کی طرف بڑھنا این ایف ایل کی تاریخ کی سب سے بڑی اور مہنگی فرنچائز منتقلیوں میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ حتمی طور پر منظور ہو جاتا ہے، تو الینوائے کو سالانہ کروڑوں ڈالر کے کھیلوں کے ریونیو اور سیاحت کا نقصان اٹھانا پڑے گا، جبکہ ریاست انڈیانا کے لیے یہ ایک بہت بڑا معاشی اور کھیلوں کا اعزاز ہوگا۔ آنے والے چند ہفتوں میں بیئرز انتظامیہ اور شیکاگو سٹی ہال کے مابین آخری دور کے فنانشل مذاکرات اور عدالتی چیلنجز پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

