Aadhaa Asmaan - Kids Urdu Hindi Moral Story | Bacchon ki kahanian

Aadhaa Asmaan - Kids Urdu Hindi Moral Story | Bacchon ki kahanian

آدھا آسمان

تلوار کا دھنی تھا۔ جنگ اس کے نزدیک بہادروں کا کھیل تھا۔
اس نے سوچا کہ اگر میں ہابوس نہیں تو نہ سہی ہاروت تو ہوں ۔ مجھے لڑنا چاہیے۔ دشمن کو اپنے ہاتھ دکھانے چاہیے۔
اس نے اپنے مضبوط بازوؤں پر نظر ڈالی اور پھر سرداروں کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔
آگے بڑھو بہادرو ۔ دشمن کو خاک میں ملا دو۔

Aadhaa Asmaan - Kids Urdu Hindi Moral Story | Bacchon ki kahanian
ہاروت نے فلک شگاف نعرہ لگایا تو بیلونی سپاہیوں میں نئی زندگی پیدا ہوگئی۔ وہ بے خطر دشمنوں کی صفوں پر ٹوٹ پڑے۔
کچھ دیر میں ہمارے جنگی ہاتھی پہنچ رہے ہیں۔ ایک فوجی افسر نے بتایا لیکن ان کے آنے سے پہلے ہمیں دشمن کو فصیل سے دور دھکیل دینا ہوگا۔ تا کہ ان پر حملہ آور ہوسکیں۔
ہاروت نے اپنی بھاری دو دھاری تلوار کھینچتے ہوئے کہا۔
اور پھر وہ بہلونی سپاہیوں کے ساتھ دشمن پر ٹوٹ پڑا۔ اسے اپنی جنگی صلاحیت پر اس مرتبہ شدید حیرت ہو رہی تھی۔ اس کی تلوار دشمن کے سپاہیوں کو اس طرح کاٹ رہی تھی ۔ جیسے وہ انسان نہیں گاجر مولی ہوں۔
ہاہوں کو اپنی صفوں میں پاکر بلونی سپاہی تازہ حوصلے کے ساتھ آگے بڑھے۔ تو جلد ہی یا غسی فو جیں پسپا ہو کر بے تحا شا پیچھے ہٹنے لگیں۔ ذرا ہی دیر میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ ہاروت کی بہادری نے جو اس وقت با بوس کے جس میں قید تھا، یا غسی سپاہیوں کے چھکے چھڑا دیئے۔ باغی فوج کے سپاہی اس کے ساتھ لڑتے ہوئے ڈرنے لگے ۔
جنگی ہاتھی آگئے ہیں ۔ کچھ دیر بعد ایک بلونی فوجی افسر نے کہا۔
اب آپ پیچھے آجائیں سردار ہا بوس ۔ ہاروت نے گھوم کر دیکھا۔ جنگی ہاتھیوں کا ایک خوف ناک بھرا ہوا غول آگے بڑھ رہا تھا۔ ذرا دیر ہی میں بلونی سپاہیوں نے ان کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔ باقائدہ تربیت یافتہ ہاتھیوں کا غول یا غسی فوجوں کی صفوں پر ٹوٹ پڑا۔ ان کی ہولناک چنگھاڑوں سے میدان جنگ گونجنے لگا۔
خوفزدہ یا غسی سپاہیوں کو ابھی سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ غول ان کو چیونٹیوں کی طرح روند نے لگا۔ دشمن اس طرح پلٹ کر بھاگا کہ ہاروت حیران رہ گیا۔ اور چوچن چاؤ تو خوشی سے اُچلنے لگا ۔ وہ ابتک سات یاغسی سپاہیوں کے پیٹ چاک کر چکا تھا۔ اور اس کی گردنیں کھیرے لکڑی کی طرح کاٹ ڈالی تھیں۔ ببلونی سپاہیوں نے خوش ہو کر فتح کا نعرہ بلند کیا۔
اب جلدی سے اس شگاف کو بند کرنے کا بندو بست کرو۔
ہاروت نے حکم دیا۔
دشمن نئی تیاری کے ساتھ دوباہ حملہ کرے گا“۔
بہادر ہابوس! آپ فکر نہ کریں۔ میں پہلے ہی اس کام کے لئے حکم باری کر چکا ہوں۔ ایک فوجی افسر نے کہا۔
ہاروت نے اپنے چہرے سے پسینہ صاف کیا۔ اور رتھ کی طرف پڑھا۔ اسی لمحہ ایک نوجوان پجارن بھیٹر کو چیرتی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے ہاروت کا بازو پکڑ لیا۔
سردار ہابوس ! اس نے ہانپتے ہوئے کہا۔
بڑی پجارن اور ملکہ سنبلہ کے حکم پر بہت سے سپاہی اور پجاریوں کے آدمی میری سہیلی رقاصہ قتلو ما کو گرفتار کرنے آئے ہیں۔
پجارن نے گھبرائے ہوئے لہجہ میں کہا۔
قتلوما کے حبشی غلام اُس کو گرفتاری سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آپ فورا چلئے ۔ ورنہ ..
وہ خاموش ہوگئی ۔ ہاروت کا دل قتلوما کی گرفتاری کے تصور سے لرز گیا۔ قتلو ما ملکہ سنبلہ کی جانی دشمن تھی ۔ یہ اس کو معلوم ہو چکا تھا۔ قتلوما اور سنبلہ کے درمیان عداوت کی وجہ جنگجو ہابوس تھا۔ کیونکہ دونوں اس پر مرتی تھیں ۔ جبکہ قتلوما کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہابوس کے جسم میں ہارت قید ہے۔ وہ جسے ہابوس سمجھ رہی ہے ۔ ہو ہا بوس نہیں ہے ۔ ہاروت کو یقین تھا کہ اگر قتلوما کو اس بھید سے آگاہ کر دے گا ۔ تو وہ ضرور اس کی مدد کرے گی ۔ اور ملکہ سنبلہ سے انتقام لینے کے لئے ضرور اسے کوئی ایسا منتر بتائے گی ۔ جس سے وہ ہابوس کے جسم کی قید سے آزاد ہو جائیگا ، لہذا اُس نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ وہ جیسے بھی ہو قتلوما کی مدد کرے گا۔
ہامون دیوتا کے مندر چلو ۔ ہاروت نے حبشی غلام کو حکم دیا۔ لیکن سردار اس وت آپ کا یہاں رہنا ضروری ہے ۔ یاغسی پھر حملہ کریں گئے۔
ایک فوجی افسر نے کہا۔
لیکن ہاروت نے کوئی پرواہ نہ کی۔ وہ چوچن چاؤ کے ساتھ رکھ میں سوار ہو گیا ۔ اس کا دل اس خیال سے کانپ رہا تھا کہ اگر اُسے دیر ہو گئی تو لوگ قتلوما کو قتل کر دیں گے رتھ کے رُکتے ہی پہلے ہاروت اور اس کے بعد چوچن چاؤ چھلانگ لگا کر کود گیا۔ وہ بے تحاشا بھاگتا ہوا مندر کا زینہ چڑھ کر اس کمرے کی سمت بھاگا جہاں اسے بتایا گیا تھا کہ قتلو ما کو سنبلہ کے حکم سے بند کر دیا گیا ہے۔
اس کی ننگی خون آلود تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ کمرے میں بالکل سناٹا تھا۔ موت کا خوف زدہ پجاری ہاروت کو دیکھ کر ایک طرف ہٹ گئے۔
کمرے کے سامنے پہنچ کر وہ دم بخود رہ گیا دروازے پر کئی سپاہیوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ پھر اس کی نظر ان سپاہیوں کے سردار پر پڑی جو دروازے کے عین سامنے پڑا تھا۔ اور بے حد زخمی تھا۔ ہاروت کو دیکھ کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی ۔
قتلوما کہاں ہے۔ قتلو ما ؟ ہاروت نے بپھری ہوئی آواز میں پوچھا۔
اس کے حبشی غلام لے گئے ہیں ۔ سردار ہا بوس! زخمی سپاہی نے کہا۔
ہم نے بہت زیادہ کوشش کی سردار لیکن تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ اس کے غلام اس کو ہمارے قبضہ سے نکال کر لے گئے۔
اس کے غلام ہاروت نے حیرت سے پوچھا۔ قتلوما کے غلام قتلوما اس وقت کہاں ہوگی ؟
میں کچھ نہیں جانتا ۔ زخمی سپاہی نے کہا۔
پھر اس نے ایک کے بعد ایک وہ ہچکیاں میں اور دم توڑ دیا۔
تو اتنے میں ایک پجارن اس کے قریب آئی اور سرگوشی میں کہنے لگی ۔
وہ ہامون دیوتا کے دوسرے مندر کی تہہ خانے میں روپوش ہے وہ یہاں سے بھاگ کر اس جگہ جا چھپی ہے ۔“
وہ مندر کہاں ہے؟ ہاروت نے پوچھا۔
” اس مندر کے شمال میں یہاں سے چھ میل دور مندر کے آتش کرے کے نیچے ایک تہہ خانہ ہے قتلوما اس وقت وہیں ہے اور تمہارا انتظار کر رہی ہے۔
میرا انتظار؟"
ہاں تمہارا ۔ بچارن نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
وہ تم سے کچھ کہنا چاہتی ہے میدانِ جنگ میں تمہارے پاس پہنچنا چاہتی تھی۔ لیکن اسے موقع نہ مل سکا۔ ملکہ سنبلہ کے حکم سے اس کو گر فتار کرلیا گیا۔
پھر اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟“
جتنی جلدی ہو سکے تمہیں قتلوما کے پاس پہنچ جانا چاہیے۔ وہ تمہارا انتظار کر رہی ہوگی۔ کوئی بھید کی بات ہے جو وہ تم کو بتا نا چاہتی ہے۔
بچارن کی باتوں نے ہاروت کو بے چین کر دیا تھا۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ اس کو پر لگ جائیں اور وہ جلدی سے اس تہہ خانے میں پہنچ جائے۔ جہاں قتلو ما اپنی جان بچانے کو روپوش تھی ۔
وہ رکھ کی طرف بے تحاشا بھاگا۔ چوچن چاؤ بھی اس کے پیچھے بھاگا جا رہا تھا۔
رات کی تاریخی پھیل چکی تھی ۔ ہاروت نے سہارا دے کر چوچن کو رتھ پر سوار کیا اور رتھ بان کو تیز رفتاری سے ہامون دیوتا کے دوسرے مندر کی طرف چلنے کا حکم دیا۔
اندھیرے میں ڈوبی ہوئی سڑک پر بلونی باشندے بدحواسی کے عالم میں جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے۔
مندر کا راستہ بندرگاہ کی فیصل کے قریب سے گزرتا تھا۔ جب وہ ادھر سے گزرے تو یاغسی فو جیں ایک بار پھر فصیل توڑنے کے لئے حملہ کر چکی تھیں ۔ گھمسان کی جنگ جاری تھی۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ بیلون کی آخری رات ہے۔ چوچن نے کہا۔
اگر ہم دونوں ان جسموں کو قید سے آزاد نہ ہوئے تو یا غشی فوجوں کا شکار بنیں گئے۔
تم ٹھیک کہتے ہو میرے دوست۔ ہاروت نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
تم دیکھ رہے ہو کہ میں ان جسموں کی قید سے تمہیں اور اپنے آپ کو آزاد کرنے کی کتنی کوشش کر رہا ہوں ۔ مگر کامیابی کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ بس اُمید کی ایک دھندلی سی کرن باقی رہ گئی ہے اور وہ قتلو ما ۔ میرا دل کہتا ہے کہ وہ ضرور ہماری کچھ مدد کرے گی ۔ اسے ضرور کوئی ایسا منتر آتا ہو گا جس کے پڑھنے سے ہم دونوں جسموں کی اس قید سے آزاد ہو جائیں گے۔
رتھ کو ہوا کی طرح اڑاتے ہوئے رتھ بان ہامون دیوتا کے دوسرے مندر کے قریب پہنچ گیا پجارتوں اور پجاریوں کے قربانی کے گیت کی آواز صاف سنائی دینے گئی تھی۔
مندر قریب ہی تھا اور ہاروت پجارنوں اور پجاریوں کے گیت کی آواز صاف سن رہا تھا۔ بیک وقت سینکڑوں پجاری اور پجار نہیں قربانی کے دعائیہ گیت گا رہے تھے اس کا مطلب تھا کہ قربانی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ وقت بہت کم تھا ہاروت کا دل انجانے خوف سے اچھل رہا تھا۔
وسیع آتش کدے سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے قربان گاہ کے گرد سینکڑوں بچاری اور بچار میں دیوتا کے بت کے سامنے دعائیہ گیت گا رہے تھے۔ ناقوسوں پر شور آوازیں بار بار فضا میں گونج رہی تھیں ۔
رہا تھا ۔ ہامون غخ آمون ۔ کا فلک شگاف نعرہ بار بار فضا میں بلند جلدی کرو"۔ ہاروت نے چوچن چاؤ کا بازو پکڑ کر ایک طرف گھسیٹا ۔
وقت بالکل نہیں ہے۔
سیاہ چوٹوں میں لیٹے ہوئے بچاریوں اور بچارنوں کے ہجوم کو چیرتے ہوئے وہ آگے بڑھے ایک طرف لا تعداد معصوم بچے سفید ریشمی لباس پہنے ایک قطار میں بیٹھے تھے اور سہمی ہوئی نگاہوں سے بار بار آتش کرے کو دیکھ رہے تھے ۔ جیسے ان کو یہ معلوم تھا کہ کچھ دیر بعد ان کو اسی آتش کدے سے اٹھتے شعلوں کی نذر کر دیا جائے گا۔ قربانی کے اس اسٹیانہ منظر سے ہاروت کانپ گیا۔
جبکہ ایک پجارن بڑی بے تابی کے ساتھ ہاروت کو لئے ہامون دیوتا کے بت کے عقب میں بنے ہوئے کمرے کے بند دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لمبا شخص جس کا قد کوئی آٹھ بجٹ کا ہوگا۔ باہر نکلا۔ اس کی کھوپڑی یا لکل گنجی تھی ۔ وہ ایک بری قیمتی نیلی عبا میں ملبوس تھا۔
اوہ! اس بچارن نے سہم کر کہا۔
مندر کا کا ہن گرجل خود یہاں موجود ہے۔
اور پھر اس نے جھک کر بڑے بچاری مندر کے کاہن گر جل کی تعظیری آویو پیا۔ گرجل نے کہا۔
اور سردار ہا بوس ۔ تم دونوں یہاں کیا کر رہے ہو ؟
ہم چند لمحوں کے لئے قلوما سے ملنا چاہتے ہیں۔ پو پیا نے التجا آمیز لہجے میں کہا۔
ہرگز نہیں ۔ کاہن گر جل کر آواز گونجی۔
نا ممکن ہے۔ وہ اب مقدس ہامون کی امانت ہو چکی ہے۔ ۔ بھینٹ ہو چکی۔ اور کوئی دوسرا اس کے قریب نہیں جا سکتا ۔ سوائے بامون دیوتا کے پجاریوں کے۔ اگر تم اس کے قریب گئے تو ہامون دیوتا کا ہم سے پراپنا قہر نازل ہو گا۔
اگر تم نے ہمیں قلوما سے ملنے کی اجازت نہ دی تو میں اپنے سارے سپاہی مجاز جنگ سے واپس بلالوں گا ۔ ہارت نے دھمکی دی۔
تم ایسی جرات کرو گے؟ کا ہن گرجل نے قہر آلود نظروں سے ہاروت کو گھورتے ہوئے کہا۔
سردار ہابوس! ہم کو تمہارے اور قتلوما کے خفیہ تعلقات کا علم ہو چکا ہے اور بلکہ سنبلہ نے اس کے قتل کا حکمنامہ بھی جاری کر دیا ہے۔ قتلوما کو کوئی بھی یہاں سے رہا نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ مقدس دیوتا ماموں نے بھی اس کو قربانی کے لئے چن لیا ہے۔
ہم اس کو رہا کرانے نہیں آئے ۔ معزز گر جمل ۔ ہاروت نے کہا
جی ہاں پوپیا نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا۔“
یہ جانتے ہوئے کہ ملکہ نے قتلوما کے قتل کا حکم دے دیا ہے اور مقدس دیوتا نے اسے اپنی قربانی کے لئے بھی چن لیا ہے، کوئی بھی اس کو بچانے کی کوشش نہیں کرے گا۔
پھر تم کیا چاہتی ہو ۔ گرجل نے پوچھا۔
میں صرف ذرا دیر کے لئے قلوما کو ملنا چاہتی ہوں۔ اس سے پہلے کہ وہ مقدس دیوتا کی بھینٹ چڑھ جائے ۔ میں اس کو ہیرے کی یہ انگوٹھی دینا چاہتی ہوں جو بطور امانت میرے پاس ہے ۔ اگر آپ کو کوئی خدشہ ہو تو اس دروازے پر پہرہ لگا دیجئے آپ جانتے ہیں کہ اس کمرے سے باہر نکلنے کا اور کوئی راستہ بھی نہیں ۔ بہادر ہابوس میری سفارش کر ۔ ہا کرنے کے لئے یہاں میرے ساتھ آئے ہیں۔ میں میدان جنگ سے سردار کو اپنے ساتھ لے کر آئی ہوں اور آپ جانتے ہیں کہ ایسے وقت میں جب کہ دشمن کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بہادر سردار کو یہاں روکنے رکھنا ٹھیک نہیں ۔ ایسے نازک وقت میں سردار کو مندر میں نہیں محاذ پر ہونا چاہیے۔ کا ہم گر جل نے ایک لحہ غور کیا۔ بولا ٹھیک ہے، لیکن میں صرف بہادر سردار ہا بوس پر بھروسہ کر کے یہ اجازت دے رہا ہوں ۔