عالمی سطح پر توانائی کی حفاظت کے حوالے سے ایک سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اب آبنائے ہرمز (iran hormuz) کی ممکنہ ناکہ بندی تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت دباؤ اور بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں نے عالمی منڈیوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ بحری گزرگاہ بند ہوتی ہے تو عالمی معیشت کو ایک ایسی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
بلومبرگ (Bloomberg) کی تازہ ترین تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز (iran hormuz) میں کسی بھی قسم کے فوجی تصادم یا رکاوٹ کی خبروں نے تیل کی قیمتوں کو یکسر بلند کر دیا ہے۔ یکم مئی 2026 کی لائیو اپڈیٹس بتاتی ہیں کہ سرمایہ کار اس خدشے کا شکار ہیں کہ سپلائی چین میں تعطل سے خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح کو چھو سکتی ہیں۔ تجارتی جہازوں کی انشورنس کے نرخوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے، جس کے باعث خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایکسیوس (Axios) اور سی این این (CNN) کے تجزیوں کے مطابق، صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف یہ سخت گیر رویہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ تہران کو نئے جوہری معاہدے پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم، اس "بلاک ایڈ" یا ناکہ بندی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز (iran hormuz) کے ارد گرد فوجی موجودگی بڑھنے سے براہِ راست جنگ کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ پینٹاگون کے حکام نے متنبہ کیا ہے کہ ایران اس ناکہ بندی کا جواب اپنی بحری طاقت اور میزائل حملوں سے دے سکتا ہے، جس سے پوری دنیا کی توانائی کی ترسیل معطل ہو جائے گی۔
آبنائے ہرمز (iran hormuz) اس وقت دنیا کا سب سے خطرناک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ لفظی اور بحری جنگ عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ جہاں صدر ٹرمپ اپنے "میکسمم پریشر" کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں، وہی ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کا دفاع ہر قیمت پر کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں مداخلت کر کے اس بحران کو ٹالنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا مئی 2026 کا یہ مہینہ ایک عالمی توانائی بحران کے آغاز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

