UK Ministry of Defence Failing to Protect Finances from Fraud, MPs Warn

UK Ministry of Defence Failing to Protect Finances from Fraud, MPs Warn

 عوامی فنڈز اور فوجی اخراجات میں ہونے والا فراڈ

برطانیہ کی قومی سلامتی اور سرکاری فنڈز کے تحفظ کے حوالے سے 29 مئی 2026 کو ایک انتہائی چونکا دینے والی اور تشویشناک پارلیمانی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) اور اسپاٹ لائٹ کرپشن کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ (MPs) نے سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ملک کی وزارتِ دفاع (Ministry of Defence) میں عوامی فنڈز اور فوجی اخراجات میں ہونے والا فراڈ اب ایک معمول (Normalised) بن چکا ہے، جسے روکنے میں قیادت بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔

UK Ministry of Defence Failing to Protect Finances from Fraud, MPs Warn

برطانوی پارلیمنٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کردہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (Public Accounts Committee) کی سرکاری رپورٹ کے مطابق، وزارتِ دفاع (MoD) میں سنجیدگی، توجہ اور مضبوط قیادت کی شدید کمی ہے۔ اس انتظامی غفلت کے باعث ٹیکس دہندگان کے قیمتی عوامی فنڈز کو بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی، کرپشن اور فراڈ کے سامنے بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں انکشاف کیا ہے کہ دفاعی معاہدوں اور خریداری کے عمل میں شفافیت نہ ہونے کے برابر ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں پاؤنڈز کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔


دی ٹیلی گراف (The Telegraph) کی خصوصی سیاسی کوریج کے مطابق، ارکانِ پارلیمنٹ نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ فوجی مہمات اور دفاعی بجٹ کے نام پر ہونے والے اس فراڈ کو اب حکومتی نظام کا ایک عام حصہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن واچ ڈاگ 'اسپاٹ لائٹ کرپشن' (Spotlight Corruption) نے اپنی آزادانہ رپورٹ میں وزارتِ دفاع پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جو وزارت پورے ملک کا دفاع کرنے کی ذمہ دار ہے، وہ معاشی جرائم (Economic Crime) کے خلاف اپنے ہی مالیات کا دفاع کرنے میں مکمل طور پر نااہل ثابت ہو رہی ہے۔ مئی 2026 کی اس رپورٹ نے برطانوی حکومت کے گڈ گورننس کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔


 29 مئی 2026 کو سامنے آنے والا یہ مالیاتی اسکینڈل برطانوی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے حکومت کو سخت احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ وزارتِ دفاع کے اندرونی احتساب کے نظام کو فوری طور پر تبدیل کرے اور دفاعی فنڈز کی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ رشی سوناک کی حکومت یا برطانوی وزیرِ دفاع اس سنگین پارلیمانی رپورٹ پر کیا عملی اقدامات اٹھاتے ہیں، کیونکہ عوامی سطح پر اس ٹیکس چوری کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔