بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ (Energy Crisis)
برطانیہ میں رہنے والے لاکھوں خاندانوں کے لیے مئی 2026 کے آخری ہفتے میں پبلک یوٹیلٹیز کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ نیوز کی رپورٹس کے مطابق، برطانوی توانائی ریگولیٹر 'آفجیم' (Ofgem) کی جانب سے گرمیوں کے سیزن میں انرجی پرائس کیپ (Energy Price Cap) میں ایک غیر معمولی اور نایاب اضافے (Summer Hike) کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے بجلی اور گیس کے بلوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
اسکائی نیوز (Sky News) کی خصوصی معاشی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ اس وقت توانائی کے بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث ایک سنگین 'انرجی ڈیٹ کرائسز' (Energy Debt Crisis) یعنی قرضوں کے بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ عام طور پر سردیوں کے بعد گرمیوں میں ہاؤس ہولڈ بلز میں کمی دیکھنے کو ملتی ہے، لیکن مئی 2026 کی عالمی گیس اور بجلی کی مارکیٹ کی صورتحال کے باعث اس بار گرمیوں میں بھی پرائس کیپ بڑھنے کی توقع ہے۔ اس غیر متوقع اضافے سے غریب اور اوسط آمدنی والے خاندانوں پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا جو پہلے ہی پرانے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
دی گارڈین (The Guardian) کے مالیاتی تجزیہ کار نیلز پراٹلی کے مطابق، ریگولیٹر 'آفجیم' (Ofgem) کو اب عوام کے سامنے بالکل صاف اور سیدھی بات کرنی چاہیے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں اب آنے والے کئی سالوں تک اسی طرح بلند ترین سطح پر برقرار رہنے والی ہیں۔ نیٹ زیرو (Net Zero) اہداف کے لیے انفراسٹرکچر کی تبدیلی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں جاری جیو پولیٹیکل تناؤ کی وجہ سے سستی توانائی کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ بی بی سی (BBC News) نے بھی خبردار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے غریب ترین خاندانوں کے لیے اضافی امدادی پیکیج کے بغیر یہ بحران آنے والے مہینوں میں عوامی احتجاج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
مئی 2026 میں برطانوی عوام کے لیے انرجی پرائس کیپ میں یہ متوقع اضافہ مہنگائی کے مارے شہریوں کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل اور مہنگی بجلی کے اس نئے متبادل سے نمٹنے کے لیے برطانوی حکومت کو پائیدار ریلیف فراہم کرنا ہوگا، ورنہ لاکھوں مزید ہاؤس ہولڈز خطِ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے اور توانائی کمپنیوں کے ڈوبتے ہوئے قرضے ملکی معیشت کے لیے ایک مستقل دردِ سر بن جائیں گے۔

