متحدہ عرب امارات (UAE) اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی تناؤ نے مئی 2026 میں ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے، کیونکہ یو اے ای کی جانب سے پاکستانی ورکرز کی بڑے پیمانے پر بے دخلی (Deportations) کی خبریں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ان بے دخلیوں نے نہ صرف ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا ہے بلکہ دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں۔ اگرچہ اماراتی حکام اسے قانونی ضوابط کا حصہ قرار دے رہے ہیں، لیکن مبصرین اسے علاقائی سیاست اور حالیہ 'پیس میکنگ' کوششوں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز (The New York Times) کی 8 مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق،متحدہ عرب امارات (UAE) نے سینکڑوں پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، جس کی وجہ پاکستان کی بعض علاقائی تنازعات میں غیر جانبداری یا 'ثالث' کا کردار بتائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، پاکستان کی وزارتِ داخلہ اور دفترِ خارجہ نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ یہ بے دخلیاں کسی مخصوص ملک یا فرقے کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ حکام کا موقف ہے کہ یہ ایک معمول کا قانونی عمل ہے جو ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کیا جا رہا ہے، اور اسے سیاسی رنگ دینا "بدنیتی" پر مبنی ہے۔
ڈان نیوز (Dawn News) اور ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان نے یو اے ای کے ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قانونی دستاویزات رکھنے والے کسی بھی پاکستانی کو پریشان نہیں کیا گیا۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ چار ماہ میں تقریباً 1500 ہنگامی سفری دستاویزات جاری کی گئیں تاکہ وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کی مدد کی جا سکے۔ تاہم، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مسترد کر دیا گیا ہے جن میں اسے باقاعدہ 'ٹارگٹڈ آپریشن' قرار دیا جا رہا تھا۔ مئی 2026 کی اس صورتحال نے معاشی ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات (UAE) سے آنے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
یو اے ای اور پاکستان کے تعلقات مئی 2026 میں ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ جہاں ایک طرف قانونی خلاف ورزیوں پر قابو پانے کے لیے اماراتی حکام متحرک ہیں، وہیں دوسری طرف پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کے تحفظ اور سفارتی تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ان خدشات کو کس حد تک دور کر پاتے ہیں۔ فی الحال، پاکستانیوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ یو اے ای میں قیام کے دوران اپنے ویزا اور رہائشی قوانین کی سختی سے پابندی کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

