Golden Trump Statue Controversy: Pastor Defends Artwork Amid Sculptor Fallout

Golden Trump Statue Controversy: Pastor Defends Artwork Amid Sculptor Fallout

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک نئے سونے کے مجسمے (Gold Trump Statue) نے مئی 2026 میں ایک نئی عالمی بحث چھیڑ دی ہے۔  رپورٹس کے مطابق، یہ مجسمہ ٹرمپ کے گالف کورس پر نصب کیا گیا ہے، جس نے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں ملے جلے ردعمل کو جنم دیا ہے۔ اس مجسمے کی چمک دمک اور اس کے ساتھ وابستہ مذہبی بیانات نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے، جہاں کچھ لوگ اسے عقیدت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں تو کچھ اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

Golden Trump Statue Controversy: Pastor Defends Artwork Amid Sculptor Fallout

فرانس 24 (France 24) کی 8 مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے سے وابستہ ایک معروف پادری نے ان تمام تنقیدوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں اس مجسمے کو "بت پرستی" سے تشبیہ دی جا رہی تھی۔ پادری کا اصرار ہے کہ یہ سنہری مجسمہ عبادت کے لیے نہیں بلکہ ایک سیاسی لیڈر کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ناقدین اس معاملے کو بلاوجہ مذہبی رنگ دے رہے ہیں، جبکہ یہ محض ایک فن پارہ ہے جو ٹرمپ کے حامیوں کے لیے اتحاد کی علامت ہے۔


دوسری جانب، ڈیلی بیسٹ (The Daily Beast) نے اس معاملے کے ایک اور پہلو کو اجاگر کیا ہے، جہاں مجسمہ ساز اور "میگا کرپٹو برادرز" (MAGA Crypto Bros) کے درمیان شدید تلخی پیدا ہو گئی ہے۔ مجسمہ ساز نے کرپٹو سرمایہ کاروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اس فن پارے کو اپنے مالی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اس تنازع نے ٹرمپ کے حامیوں کے اندرونی اختلافات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مجسمے کی تیاری کے پیچھے کئی مالی اور نظریاتی پیچیدگیاں موجود تھیں۔


 ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ سونے کے مجسمے (Gold Trump Statue)  مئی 2026 کا ایک گرم ترین موضوع بن چکا ہے۔ دی انڈیپینڈنٹ (The Independent) کے مطابق، گالف کورس پر اس کی موجودگی ٹرمپ کی سیاسی مہم کو ایک نیا رنگ دے رہی ہے۔ جہاں ایک طرف پادری اس کے دفاع میں کھڑے ہیں، وہیں دوسری طرف مجسمہ ساز اور سرمایہ کاروں کے درمیان ہونے والے جھگڑے نے اس منصوبے کی ساکھ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ مجسمہ ٹرمپ کے حامیوں کو مزید متحد کرتا ہے یا یہ تنازع ان کے لیے سیاسی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔