بین الاقوامی دفاعی اور سیاسی حلقوں میں اس وقت شدید ہلچل مچی ہوئی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے جرمنی سے امریکی افواج کی تعداد میں بڑی کٹوتی (trump germany troop reduction) کا اچانک حکم جاری کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اس فیصلے نے نہ صرف جرمنی بلکہ پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کو بھی صدمے میں ڈال دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ جرمنی دفاعی اخراجات میں اپنا پورا حصہ نہیں ڈال رہا، اس لیے امریکہ اب وہاں اپنی فوجی موجودگی کو مزید برقرار رکھنے کا پابند نہیں ہے۔
پولیٹیکو (Politico) کی رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون کے سینئر عہدیدار اس اچانک اعلان پر حیران ہیں کیونکہ ان کے بقول اس اقدام سے یورپ میں نیٹو (NATO) کا دفاعی ڈھانچہ کمزور ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، سی این این (CNN) نے انکشاف کیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد واشنگٹن اور برلن کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے جرمنی میں فوجیوں کی کمی (trump germany troop reduction) کا یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کے حالات پہلے ہی غیر یقینی کا شکار ہیں، اور جرمن حکومت اسے اپنے دفاع پر ایک بڑا سمجھوتہ قرار دے رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز (New York Times) کی رپورٹ کے مطابق، اس کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ایران کے حوالے سے پالیسی اختلافات بھی ہیں۔ صدر ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک میرز کے درمیان ایران کے معاملے پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے، جس کے بعد جرمنی سے فوجی انخلاء (trump germany troop reduction) کا دباؤ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ چانسلر میرز نے واضح کیا ہے کہ جرمنی کسی بھی قسم کے دباؤ میں آ کر اپنی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کرے گا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ جو ممالک امریکی تحفظ چاہتے ہیں، انہیں اس کی بھاری قیمت بھی ادا کرنی ہوگی۔
صدر ٹرمپ کا جرمنی سے افواج نکالنے کا فیصلہ (trump germany troop reduction) عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف امریکہ اور جرمنی کے دیرینہ تعلقات خطرے میں پڑ گئے ہیں بلکہ نیٹو کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ پینٹاگون اور کانگریس کے اندر اس فیصلے کی مخالفت کے باوجود صدر ٹرمپ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جرمنی دفاعی بجٹ میں اضافے کی امریکی شرط تسلیم کر لیتا ہے یا یورپ میں امریکی فوجی اڈوں کا یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔

