بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مئی 2026 کے دوران ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے شہریوں سے ایک اہم اور غیر معمولی اپیل کی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، وزیر اعظم نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ کم از کم ایک سال کے لیے سونے (gold) کی خریداری سے گریز کریں اور اس کے بجائے مقامی سیاحت اور ملکی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا اور ملکی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوگا۔
نیوز 18 تیلگو کی رپورٹ کے مطابق، وزیر اعظم مودی نے "بائے انڈین" (Buy Indian) کے فلسفے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب شہری سونا خریدنے کے بجائے مقامی صنعتوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ بیرونی ممالک کے دوروں کے بجائے مقامی سیاحتی مقامات کا رخ کریں، جس سے بھارت کی سیاحت کی صنعت کو فروغ ملے گا۔ مئی 2026 کی یہ اپیل خاص طور پر ان متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے ہے جو سونے (gold) کو سرمایہ کاری کا سب سے محفوظ ذریعہ سمجھتے ہیں۔
تیلگو سمایم (Telugu Samayam) کی معاشی رپورٹ میں اس بات کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ اگر بھارتی شہری ایک سال کے لیے سونے کی خریداری روک دیں تو اس کے معیشت پر کیا مثبت اثرات ہوں گے۔ بھارت دنیا میں سونے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، اور اس پر خرچ ہونے والا کثیر زرمبادلہ تجارتی خسارے کا باعث بنتا ہے۔ مئی 2026 کے اس مطالبے پر عمل درآمد سے بھارت کی درآمدی بل میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جس سے روپیہ مستحکم ہوگا اور افراطِ زر پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ معاشی ماہرین اسے "معاشی حب الوطنی" کی ایک شکل قرار دے رہے ہیں۔
وزیر اعظم مودی کی جانب سےسونے (gold) کی خریداری کے خلاف یہ مہم مئی 2026 میں ایک نئی بحث کا آغاز کر چکی ہے۔ اگرچہ سونا بھارتی ثقافت اور شادی بیاہ کی تقریبات کا لازمی حصہ ہے، لیکن حکومت کا مقصد لوگوں کو مالیاتی بچت کے دیگر ذرائع جیسے کہ ڈیجیٹل گولڈ یا بانڈز کی طرف راغب کرنا ہے۔ اس اپیل کا مقصد بھارت کو "آتم نربھر" (خود کفیل) بنانے کی جانب ایک قدم ہے، تاکہ ملک کی دولت ملک کے اندر ہی گردش کرے اور معاشی استحکام کا ذریعہ بنے۔

