برطانوی نژاد البانوی گلوکارہ دعا لیپا (dua lipa) مئی 2026 میں ایک بار پھر عالمی سرخیوں کا مرکز بن گئی ہیں۔حالیہ رپورٹس کے مطابق، سوشل میڈیا پر یہ دعوے تیزی سے پھیل رہے ہیں کہ گلوکارہ پر اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ افواہیں اس وقت زور پکڑ گئیں جب دعا لیپا (dua lipa)نے غزہ کی صورتحال پر اپنے بیانیہ میں شدت پیدا کی، جس کے بعد انٹرنیٹ پر ان کے خلاف اور حق میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، دعا لیپا (dua lipa) پر پابندی کے وائرل دعوؤں کے ساتھ ساتھ سام سنگ الیکٹرانکس (Samsung Electronics) کے خلاف ایک بڑا قانونی تنازع بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ مئی 2026 میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، سام سنگ اور دعا لیپا (dua lipa) کے درمیان اشتہاری معاہدوں اور دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property) کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قانونی پیچیدگیوں اور گلوکارہ کے سیاسی موقف نے ان کے برانڈ امیج کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
برسلز مارننگ (Brussels Morning) کی رپورٹ میں مئی 2026 کے اس قانونی تنازع کی گہرائی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سام سنگ کو اس وقت شدید عوامی دباؤ اور قانونی چیلنجز کا سامنا ہے، کیونکہ دعا لیپا کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر سام سنگ کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل میں پابندی کے حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ حکومتی اعلامیہ سامنے نہیں آیا، تاہم وائرل پوسٹس نے عوامی رائے عامہ کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔
دعا لیپا (dua lipa) مئی 2026 میں فن اور سیاست کے ایک مشکل سنگم پر کھڑی ہیں۔ جہاں ایک طرف ان کے مداح ان کی ہمت اور سیاسی موقف کی تعریف کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف سام سنگ کے ساتھ قانونی جنگ اور سفارتی پابندیوں کی افواہوں نے ان کے کیریئر کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ آنے والے دنوں میں سام سنگ کیس کا فیصلہ اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ وضاحت اس صورتحال کو مزید واضح کرے گی، لیکن فی الحال دعا لیپا عالمی ڈیجیٹل میڈیا پر سب سے زیادہ زیرِ بحث شخصیت بنی ہوئی ہیں۔

