LHC Bars Arbitrary Passenger Offloading: Pakistan Immigration Wing Under Fire

LHC Bars Arbitrary Passenger Offloading: Pakistan Immigration Wing Under Fire

بیرونِ ملک سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کو ایک بڑا ریلیف 

پاکستان کے عدالتی اور ہوا بازی کے حلقوں سے مئی 2026 کے آخری ہفتے کے دوران ایک انتہائی اہم اور تاریخی خبر سامنے آئی ہے، جس نے بیرونِ ملک سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کو ایک بڑا ریلیف فراہم کیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، لاہور ہائی کورٹ (LHC) نے ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر امیگریشن حکام کی جانب سے مسافروں کو بغیر کسی قانونی جواز اور من مانی بنیادوں پر طیاروں سے آف لوڈ کرنے (Arbitrary Passenger Offloading) کے عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔

LHC Bars Arbitrary Passenger Offloading: Pakistan Immigration Wing Under Fire

ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) اور ڈان نیوز (Dawn) کی عدالتی کوریج کے مطابق، لاہور ہائی کورٹ نے ایک شہری کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ رولنگ جاری کی ہے۔ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) اور امیگریشن ونگ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ جائز ویزا، درست پاسپورٹ اور تمام سفری دستاویزات رکھنے والے کسی بھی شہری کو محض شک یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر سفر کرنے سے روکیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ مسافروں کو اس طرح آف لوڈ کرنا نہ صرف ان کے بنیادی آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے مسافروں کو شدید مالی اور ذہنی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔


بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹ دی ہنس انڈیا (The Hans India) کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا امیگریشن ونگ اس وقت شدید غفلت (Gross Negligence) اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت شدید تنقید کی زد میں ہے۔ حالیہ مہینوں میں ائیرپورٹس پر کئی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جہاں اوورسیز پاکستانیوں اور بین الاقوامی مسافروں کو ہراساں کیا گیا اور انہیں فلائٹ لینے سے روکا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایف آئی اے کو سخت احکامات جاری کیے ہیں کہ آئندہ کسی بھی مسافر کو مروجہ قانونی طریقہ کار اور ٹھوس شواہد کے بغیر آف لوڈ نہ کیا جائے، اور ایسا کرنے والے افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔


مئی 2026 میں لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ پاکستان میں قانون کی بالادستی اور مسافروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سنہرا باب ثابت ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد اب ائیرپورٹ امیگریشن کا عملہ اپنی من مانی کارروائیوں سے باز رہنے پر مجبور ہوگا، جس سے نہ صرف سمندر پار پاکستانیوں کا نظام پر اعتماد بحال ہوگا بلکہ ملکی ائیرپورٹس کے انتظام میں بھی شفافیت آئے گی۔ سفری قوانین کے ماہرین نے عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ائیرپورٹ پروٹوکولز کی بہتری کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔