ہالی وڈ کی سدا بہار اور افسانوی صفِ اول کی اداکارہ جولی اینڈریوز (Julie Andrews) نے ایک بار پھر انسانی ہمدردی اور طبی تحقیق کے میدان میں اپنا سرگرم کردار ادا کر کے لاکھوں دل جیت لیے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، 'دی ساؤنڈ آف میوزک' اور 'میری پاپنز' جیسی شاہکار فلموں سے دنیا بھر میں شہرت پانے والی 90 سالہ اداکارہ نے پارکنزنز بیماری (Parkinson's Disease) کے علاج اور اس پر ہونے والی تحقیق کے لیے فنڈز جمع کرنے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنی بھرپور آواز بلند کی ہے۔
یو ایس اے ٹوڈے (USA Today) کی رپورٹ کے مطابق، جولی اینڈریوز (Julie Andrews) نے مئی 2026 میں پارکنزنز کے شکار مریضوں کی بحالی اور علاج کی تلاش کے لیے منعقدہ ایک خصوصی فنڈ ریزنگ تقریب میں طویل عرصے بعد پبلک اپیئرنس (عوامی منظر عام پر آمد) دی، جس نے وہاں موجود تمام مہمانوں کو سحر انگیز کر دیا۔ بڑھتی عمر کے باوجود ان کے چہرے کا وقار اور مسکراہٹ دیدنی تھی۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طبی ماہرین اور سائنسدانوں کی کوششوں کو سراہا جو اس اعصابی بیماری کے مستقل علاج کی تلاش کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔
پیپلز میگزین (People.com) کی رپورٹ کے مطابق، جولی اینڈریوز (Julie Andrews) کا یہ اقدام اس بیماری سے لڑنے والے لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارکنزنز کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر فنڈنگ اور شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مزید برآں، ریڈرز ڈائجسٹ (Reader's Digest) نے اپنی رپورٹ میں ان کی ایک نئی جذباتی ویڈیو کا ذکر کیا ہے، جس میں وہ دنیا بھر کے لوگوں سے اس نیک مقصد میں اپنا حصہ ڈالنے کی اپیل کر رہی ہیں۔ اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر مداحوں کی جانب سے بے حد پسند کیا جا رہا ہے اور لوگ ان کی صحت اور درازیِ عمر کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔
جولی اینڈریوز (Julie Andrews) کا پارکنزنز بیماری کے خلاف مہم کا حصہ بننا مئی 2026 میں شوبز اور سماجی حلقوں کی ایک معتبر خبر بن چکا ہے۔ ان کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ سچے فنکار صرف اسکرین تک محدود نہیں رہتے بلکہ حقیقی زندگی میں بھی معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے مشعلِ راہ بنتے ہیں۔ شائقین اور طبی برادری نے امید ظاہر کی ہے کہ ان جیسی عالمی شخصیت کے تعاون سے پارکنزنز ریسرچ کے لیے ریکارڈ فنڈز جمع کیے جا سکیں گے، جو اس موذی مرض کے علاج کی دریافت میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

