امریکی طیارے کو گرانے کے لیے چینی میزائل کے ممکنہ استعمال کی خبر
مئی 2026 کے آخری ہفتے کے دوران عالمی سیاست اور دفاعی حلقوں سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جس نے واشنگٹن، تہران اور بیجنگ کے مابین جیو پولیٹیکل کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے اپنی فضائی حدود میں امریکی فضائیہ کے ایک جدید ترین لڑاکا طیارے F-15E اسٹرائیک ایگل (American F-15E) کو مار گرانے کے لیے مبینہ طور پر جدید چینی ساختہ میزائل (Chinese Missile) کا استعمال کیا ہے۔
امریکی ٹی وی نیٹ ورک این بی سی نیوز (NBC News) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون اور واشنگٹن کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام اس وقت اس بات کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ایران کی جانب سے امریکی ایف-15 طیارے پر داغا جانے والا اینٹی ایئر کرافٹ میزائل براہِ راست چین کی جانب سے تہران کو فراہم کیا گیا تھا یا اسے کسی خفیہ ڈیل کے تحت منتقل کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس واقعے میں چینی ہتھیاروں کی شمولیت کے ٹھوس شواہد سامنے آتے ہیں، تو یہ امریکہ اور چین کے فوجی اور سفارتی تعلقات کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوگا اور اس سے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں ایک نیا اور خطرناک موڑ آ سکتا ہے۔
دفاعی امور کے معتبر جریدے نیشنل سیکیورٹی جرنل (National Security Journal) کے مطابق، ایران کے اوپر امریکی F-15E لڑاکا طیارے کا گرایا جانا امریکی فضائی برتری (Air Superiority) کے لیے ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کے پاس موجود پرانے فضائی دفاعی نظام کے لیے امریکہ کے جدید ترین اسٹیلتھ اور جنگی طیاروں کو نشانہ بنانا ممکن نہیں تھا، لیکن چین کے تیار کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ترین گائیڈڈ میزائلز نے تہران کی دفاعی صلاحیتوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ یو این این (UNN) نے بھی اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ اس واقعے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
مئی 2026 میں ایران کی جانب سے امریکی طیارے کو گرانے کے لیے چینی میزائل کے ممکنہ استعمال کی اس خبر نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس اور سفارتی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بیجنگ سے وضاحت طلب کرنے کا اشارہ دیا ہے، جبکہ دوسری طرف بیجنگ اور تہران نے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ مشترکہ ردعمل جاری نہیں کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ آنے والے دنوں میں امریکہ، چین اور ایران کے مابین ایک بڑی فوجی یا اقتصادی محاذ آرائی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

