Supreme Court Directs IHC to Decide Imaan Mazari & Husband’s Plea

Supreme Court Directs IHC to Decide Imaan Mazari & Husband’s Plea

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں مئی 2026 کے دوران انسانی حقوق کی کارکن   ایمان مزاری(Imaan Mazari) اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کے کیسز میں اہم قانونی پیش رفت ہوئی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کو حکم دیا ہے کہ وہ   ایمان مزاری(Imaan Mazari)  اور ان کے شوہر کی سزاؤں کی معطلی کی درخواستوں پر فوری فیصلہ کرے۔ مئی 2026 کی یہ عدالتی کارروائی ملک میں آزادیِ اظہار اور قانونی حقوق کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

Supreme Court Directs IHC to Decide Imaan Mazari & Husband’s Plea

دی نیشن (The Nation) کی 12 مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ جوڑے کی جانب سے دائر کردہ سزا کی معطلی کی اپیلوں کو میرٹ پر سنے اور ان کا فیصلہ جلد از جلد کرے۔ اس سے قبل،   ایمان مزاری(Imaan Mazari)  اور ہادی چٹھہ کو مختلف دفعات کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے خلاف انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا تھا۔ مئی 2026 کے اس حکم نامے نے قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ہائی کورٹ ان کی سزا معطل کر کے انہیں فوری ریلیف فراہم کرے گی یا نہیں۔


پاکستان ٹوڈے (Pakistan Today) کی رپورٹ کے مطابق،  ایمان مزاری(Imaan Mazari) اور ہادی چٹھہ نے پیکا (PECA) قانون سے متعلق کیس کی سماعت سے قبل سپریم کورٹ میں تازہ ترین دستاویزات اور ثبوت جمع کرائے ہیں۔ یہ دستاویزات ان کے دفاع کو مضبوط کرنے اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو چیلنج کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ مئی 2026 کی یہ سماعتیں پیکا آرڈیننس کی حدود اور اس کے غلط استعمال کے حوالے سے بھی دور رس نتائج کی حامل ہو سکتی ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران وکلاء نے دلائل دیے کہ ان کے موکلین کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔


 ایمان مزاری(Imaan Mazari)  اور ہادی چٹھہ کا کیس مئی 2026 میں پاکستان کے قانونی اور سیاسی منظر نامے پر چھایا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کی مداخلت اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو دی گئی ہدایات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عدالتیں شفاف ٹرائل اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہیں۔ آنے والے چند دن اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوں گے کہ ہائی کورٹ ان کی سزا کی معطلی پر کیا حتمی فیصلہ صادر کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور مقامی سول سوسائٹی بھی اس کیس کی کوریج کو گہری دلچسپی سے دیکھ رہی ہے کیونکہ یہ کیس براہِ راست آزادیِ رائے سے جڑا ہوا ہے۔