امریکی ریاست یوٹاہ کے عدالتی نظام میں اس وقت ایک بڑا بھونچال دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی جسٹس ڈیانا ہیگن (diana hagen) نے اپنے عہدے سے اچانک استعفیٰ دے دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ان کا یہ استعفیٰ ایک ایسی تحقیقات سے قبل سامنے آیا ہے جس میں ان پر ایک وکیل کے ساتھ غیر مناسب تعلقات کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ وکیل ریاست کے حساس 'ری ڈسٹریکٹنگ' (حلقہ بندیوں) کے مقدمے میں فریق تھے۔
یوٹاہ نیوز ڈسپوچ (Utah News Dispatch) کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس ڈیانا ہیگن (diana hagen) کے خلاف لگنے والے الزامات میں مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کا پہلو نمایاں ہے، کیونکہ جس وکیل کے ساتھ ان کے مبینہ تعلقات بتائے جا رہے ہیں، وہ براہ راست ان مقدمات پر اثر انداز ہو سکتے تھے جن کی سماعت جسٹس ہیگن کر رہی تھیں۔ عدالتی اخلاقیات کے کمیشن نے اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کرنا تھا، لیکن جسٹس ہیگن نے کسی بھی قانونی کارروائی سے قبل ہی اپنے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
کے ایس ایل (KSL) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیانا ہیگن (diana hagen) کے استعفیٰ نے قانونی حلقوں میں اخلاقیات اور عدالتی شفافیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فاکس نیوز کے مطابق، ری ڈسٹریکٹنگ اٹارنی کے ساتھ تعلق کے الزامات نے ان تمام فیصلوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جن میں مذکورہ وکیل پیش ہوئے تھے۔ مئی 2026 کی یہ پیش رفت ریاست کی اعلیٰ ترین عدالت کے وقار کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ جسٹس ہیگن ایک انتہائی معتبر جج تصور کی جاتی تھیں۔
ڈیانا ہیگن (diana hagen) کا استعفیٰ مئی 2026 کا ایک سنگین قانونی معاملہ بن چکا ہے۔ اگرچہ انہوں نے تاحال ان الزامات پر تفصیلی موقف اختیار نہیں کیا، لیکن عدالتی حلقوں کا ماننا ہے کہ ان کی سبکدوشی سے ریاست کے اہم مقدمات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ گورنر یوٹاہ کو اب ان کی جگہ نئے جج کی تعیناتی کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ واقعہ ججوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران ذاتی تعلقات اور عدالتی اخلاقیات کے درمیان حدِ فاصل برقرار رکھنا کس قدر ضروری ہے۔

