امریکہ کی مجرمانہ تاریخ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث کیسز میں سے ایک کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے، کیونکہ بیٹی بروڈرک (betty broderick) 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق، بیٹی بروڈرک جو کہ اپنے سابق شوہر اور ان کی نئی اہلیہ کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہی تھیں، کیلیفورنیا کے چینو اسپتال میں دم توڑ گئیں۔ ان کی موت کی تصدیق محکمہ اصلاحات (Department of Corrections) نے کی ہے، جہاں وہ کئی دہائیوں سے قید تھیں۔
سان ڈیاگو یونین ٹریبیون (San Diego Union-Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، بیٹی بروڈرک کو 1989 میں اپنے سابق شوہر ڈین بروڈرک اور ان کی دوسری بیوی لنڈا کولکینا کو ان کے گھر میں گھس کر قتل کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔ یہ کیس اس وقت عالمی سطح پر مشہور ہوا جب بیٹی نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ وہ برسوں سے جاری جذباتی اور نفسیاتی تشدد (Gaslighting) کا شکار تھیں، جس نے انہیں اس انتہائی قدم پر مجبور کیا۔ مئی 2026 میں ان کے انتقال نے اس پرانے تنازع کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے جس پر کئی کتابیں اور فلمیں بھی بن چکی ہیں۔
سی بی ایس 8 (CBS 8) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیٹی بروڈرک (betty broderick) نے اپنی زندگی کے آخری ایام چینو اسٹیٹ جیل میں گزارے۔ انہوں نے کئی بار پیرول (قبل از وقت رہائی) کی درخواست دی تھی، لیکن ہر بار ان کی درخواست مسترد کر دی گئی کیونکہ حکام کا ماننا تھا کہ انہیں اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ پیپل میگزین (People) کے مطابق، ان کی موت قدرتی وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے۔ ان کا کیس آج بھی سماجی ماہرین اور قانونی حلقوں میں طلاق، نفسیاتی دباؤ اور مجرمانہ ردعمل کے حوالے سے ایک مثال کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔
بیٹی بروڈرک (betty broderick) کی موت مئی 2026 کی ایک بڑی بین الاقوامی خبر ہے، جس نے امریکی عدالتی نظام کی ایک طویل داستان کا خاتمہ کر دیا ہے۔ 1991 میں سزا پانے کے بعد سے وہ مسلسل قید میں رہیں اور ان کی کہانی نے کئی دہائیوں تک لوگوں کو تجسس اور خوف میں مبتلا رکھا۔ اگرچہ ان کے حامی انہیں ایک مظلوم عورت قرار دیتے تھے، لیکن قانونی طور پر وہ ایک ایسی مجرمہ تھیں جس نے دو معصوم جانیں لیں۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی سان ڈیاگو کی تاریخ کا ایک افسوسناک اور متنازع باب اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔

