US Travel Visa Denied 4 Times: A Family's 9-Year Struggle for Approval

US Travel Visa Denied 4 Times: A Family's 9-Year Struggle for Approval

امریکہ کا ٹریول ویزا (travel visa) حاصل کرنا بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ڈراونا خواب بنتا جا رہا ہے۔ نیوز  رپورٹس کے مطابق، ایک بھارتی نژاد خاندان کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جن کے والدین کا ویزا گزشتہ 9 سالوں میں 4 بار مسترد کیا جا چکا ہے۔ مضبوط مالی پس منظر، اچھی سفری تاریخ اور بھارت میں گہرے تعلقات کے باوجود، امریکی قونصل خانے کی جانب سے مسلسل انکار نے ویزا سسٹم کی شفافیت اور طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

US Travel Visa Denied 4 Times: A Family's 9-Year Struggle for Approval

ٹریول اینڈ ٹور ورلڈ (Travel and Tour World) کی رپورٹ کے مطابق، ویزا کے خواہش مند افراد نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ویزا انٹرویو صرف چند منٹوں پر محیط ہوتا ہے جس میں افسران درخواست گزار کے اپنے ملک سے مضبوط تعلقات (Home Ties) پر بحث کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ ٹریول ویزا (travel visa) کی درخواست دینے والے ایک صارف نے بتایا کہ ان کے والدین کے پاس جائیداد، کاروبار اور ریٹائرمنٹ کے بعد کے مستحکم ذرائع موجود تھے، لیکن انٹرویو آفیسر نے ان دستاویزات کو دیکھے بغیر ہی درخواست مسترد کر دی۔


گریٹ آندھرا (Great Andhra) کی رپورٹ میں اس 9 سالہ طویل جدوجہد کو انسانی ہمدردی کے تناظر میں دیکھا گیا ہے، جہاں بچے اپنے والدین کو اپنے پاس بلانے کے لیے تڑپ رہے ہیں لیکن ویزا قوانین کی سختی ان کے درمیان حائل ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کے مطابق، ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جہاں ٹریول ویزا (travel visa) کی ریجیکشن کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی جاتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ "سیکشن 214(b)" کے تحت زیادہ تر درخواستیں اس بنیاد پر مسترد کی جاتی ہیں کہ درخواست گزار شاید واپس نہیں آئے گا، چاہے وہ کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو۔


ٹریول ویزا (travel visa) کا حصول اب محض دستاویزات کا کھیل نہیں رہا بلکہ یہ ایک پیچیدہ اور بعض اوقات ناامید کر دینے والا عمل بن چکا ہے۔ بار بار کی ریجیکشن نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ خاندانوں کے حوصلے بھی توڑ دیتی ہے۔ متاثرہ خاندان اب امریکی محکمہ خارجہ سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ویزا انٹرویو کے عمل کو مزید شفاف اور منطقی بنائیں تاکہ حقیقی سیاحوں اور بزرگ والدین کو اپنے بچوں سے ملنے کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔