Rawalpindi and Islamabad Braced for Security Lockdown Amid Foreign Delegations

Rawalpindi and Islamabad Braced for Security Lockdown Amid Foreign Delegations

پاکستان کے دارالحکومت اور راولپنڈی (rawalpindi)میں غیر ملکی وفود کی آمد اور ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ نیوز  رپورٹس کے مطابق، اتوار کے روز اسلام آباد اور راولپنڈی (rawalpindi) کو ملانے والی اہم شاہراہوں، بشمول ایکسپریس وے اور ریڈ زون کے راستوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ہوٹلوں اور ٹرانسپورٹ کی خدمات پر بھی عارضی پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاکہ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

Rawalpindi and Islamabad Braced for Security Lockdown Amid Foreign Delegations

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد ٹریفک پولیس (ITP) نے میٹرو بس سروس اور ایکسپریس وے کے مخصوص حصوں کو بند کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر راولپنڈی (rawalpindi) سے آنے والے مسافروں پر پڑ رہا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متبادل راستے جیسے پشاور روڈ اور آئی جے پی روڈ استعمال کریں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی وفود کی بحفاظت نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں، جو اس وقت اہم علاقائی معاملات پر گفتگو کے لیے پاکستان میں موجود ہیں۔


نیویارک پوسٹ (NY Post) کی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی (rawalpindi) کے بڑے ہوٹلوں کو خالی کروا لیا گیا ہے یا ان کی بکنگ روک دی گئی ہے۔ یہ غیر معمولی اقدامات امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔ ڈان نیوز (Dawn) کے مطابق، ان بندشوں کی وجہ سے جڑواں شہروں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد اور عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے کلیدی کردار کی وجہ سے یہ قربانی ضروری ہے۔


راولپنڈی (rawalpindi) اور اسلام آباد اس وقت ایک ہائی الرٹ زون میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ غیر ملکی مہمانوں کی موجودگی نے جہاں پاکستان کے سفارتی قد میں اضافہ کیا ہے، وہاں مقامی شہریوں کو سفری مشکلات کا سامنا ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں امن کے قیام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ سیکیورٹی کے یہ سخت اقدامات پیر کی صبح تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔