عالمی ٹیکنالوجی کے افق پر ایک نیا ستارہ نمودار ہوا ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی ٹیلنٹ دنیا کے بڑے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، ایلون مسک کی مشہورِ زمانہ خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) نے پاکستانی نژاد نوجوان صالح آصف (sualeh asif cursor ai) کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسٹارٹ اپ 'کرسر' (Cursor) کے ساتھ ایک تاریخی شراکت داری کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف صالح آصف کی انفرادی کامیابی ہے بلکہ عالمی اے آئی (AI) مارکیٹ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے قدموں کی علامت بھی ہے۔
جیو نیوز (Geo TV) کی رپورٹ کے مطابق، صالح آصف (sualeh asif cursor ai) اور ان کی ٹیم نے ایک ایسا اے آئی کوڈ ایڈیٹر تیار کیا ہے جو سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی دنیا میں انقلاب برپا کر رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے انجینئرز انتہائی پیچیدہ پروگرامنگ کوڈز کو چند لمحوں میں مکمل کر سکتے ہیں۔ فوربس (Forbes) نے صالح آصف کے پروفائل میں انہیں ایک "ویژنری ڈویلپر" قرار دیا ہے، جن کی کمپنی اب اسپیس ایکس جیسے بڑے ادارے کے تزویراتی سافٹ ویئر سسٹمز کو جدید بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔ ڈیلی ٹائمز (Daily Times) کے مطابق، اس ڈیل کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو کرسر کو دنیا کے قیمتی ترین اے آئی اسٹارٹ اپس کی فہرست میں شامل کر دے گی۔
بزنس ریکارڈر (Business Recorder) اور ڈان نیوز (Dawn) کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صالح آصف (sualeh asif cursor ai) نے اپنی تعلیم اور ابتدائی کیریئر کے دوران ہی اے آئی کے شعبے میں اپنی مہارت ثابت کر دی تھی۔ ان کی کمپنی 'کرسر' کو پہلے ہی سیلیکون ویلی کے بڑے سرمایہ کاروں کی حمایت حاصل تھی، لیکن اسپیس ایکس کے ساتھ 60 ارب ڈالر کے ممکنہ معاہدے نے ان کے قد کاٹھ کو عالمی سطح پر مزید بلند کر دیا ہے۔ ایلون مسک کی جانب سے اس پاکستانی ٹیلنٹ پر اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی اب ان نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے جو روایت سے ہٹ کر سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صالح آصف (sualeh asif cursor ai) کی کہانی ہر اس پاکستانی نوجوان کے لیے ایک روشن مثال ہے جو ٹیکنالوجی کے میدان میں کچھ بڑا کرنا چاہتا ہے۔ اسپیس ایکس جیسی عالمی طاقت کے ساتھ کام کرنا محض ایک کاروباری ڈیل نہیں بلکہ ایک عالمی اعتراف ہے کہ پاکستان کے ذہین دماغ اب دنیا کا مستقبل لکھ رہے ہیں۔ ان کی اس کامیابی نے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ پاکستان کے ٹیک سیکٹر کی جانب مبذول کروا دی ہے، جس سے آنے والے سالوں میں ملک میں مزید اے آئی اسٹارٹ اپس کے ابھرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

