Apna Khet Apna Rozgar Scheme: Punjab CM Launches Online Portal for Farmers

Apna Khet Apna Rozgar Scheme: Punjab CM Launches Online Portal for Farmers

حکومتِ پنجاب نے صوبے کے کسانوں کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم (apna khet apna rozgar scheme)  کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ نیوز  رپورٹس کے مطابق، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس اسکیم کے لیے آن لائن پورٹل کا افتتاح کر دیا ہے، جس کے تحت کسانوں کو جدید زرعی مشینری، ٹریکٹرز اور دیگر آلات آسان شرائط پر فراہم کیے جائیں گے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں بے روزگاری کا خاتمہ اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

Apna Khet Apna Rozgar Scheme: Punjab CM Launches Online Portal for Farmers

عدالت آن لائن (Adalat Online) کی رپورٹ کے مطابق، اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم (apna khet apna rozgar scheme)  کے لیے اپلائی کرنے کا طریقہ کار انتہائی سادہ رکھا گیا ہے۔ کسان سرکاری ویب سائٹ پر جا کر آن لائن فارم پر کر سکتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت نوجوانوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ وہ زراعت کو ایک جدید کاروبار کے طور پر اپنا سکیں۔ ریڈیو پاکستان (Radio Pakistan) نے اطلاع دی ہے کہ وزیر اعلیٰ نے افتتاحی تقریب کے دوران واضح کیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام عمل کو ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے تاکہ حقدار کسانوں تک براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔


سرکاری پورٹل (apnakhetapnarozgar.com.pk) پر دی گئی معلومات کے مطابق، اس اسکیم کے تحت کسانوں کو بلاسود قرضوں اور سبسڈی پر زرعی آلات فراہم کیے جائیں گے۔ کسانوں کو بیج، کھاد اور جدید آبپاشی کے نظام کے لیے بھی مالی معاونت دی جائے گی۔ اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم (apna khet apna rozgar scheme) کے تحت پنجاب کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے کسان درخواست دینے کے اہل ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں غذائی تحفظ (Food Security) کی صورتحال بھی بہتر ہوگی۔


اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم (apna khet apna rozgar scheme) پنجاب کے زرعی شعبے میں ایک نئی روح پھونکنے کی کوشش ہے۔ اگر آپ ایک کسان ہیں یا زراعت میں اپنا روزگار شروع کرنا چاہتے ہیں، تو یہ آپ کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل پورٹل کی فراہمی نے درخواست کے عمل کو گھر بیٹھے ممکن بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس اسکیم پر مکمل شفافیت کے ساتھ عمل درآمد ہوا، تو یہ پنجاب کی دیہی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔