Sapphire Princess Cruise Ship Recovers 5 Bodies During Mediterranean Voyage 2026

Sapphire Princess Cruise Ship Recovers 5 Bodies During Mediterranean Voyage 2026

بحیرہ روم میں چھٹیاں گزارنے والے سیاح اس وقت صدمے میں مبتلا ہو گئے جب سفائر پرنسس کروز شپ (sapphire princess cruise ship)  کے عملے نے سمندر کی لہروں پر تیرتی ہوئی پانچ انسانی لاشیں برآمد کیں۔ نیوز  رپورٹس کے مطابق، یہ لرزہ خیز دریافت اس وقت ہوئی جب جہاز پر موجود افراد نے پانی میں کوئی "نارنجی" چیز تیرتے ہوئے دیکھی، جو بعد میں ایک تباہ شدہ کشتی کے باقیات اور جانی نقصان کی صورت میں سامنے آئی۔

Sapphire Princess Cruise Ship Recovers 5 Bodies During Mediterranean Voyage 2026

پیپل میگزین (People Magazine) کی رپورٹ کے مطابق، سفائر پرنسس کروز شپ (sapphire princess cruise ship)  اپنے مقررہ راستے پر گامزن تھا کہ عملے کو پانی میں مشکوک اشیاء نظر آئیں۔ جہاز کو فوری طور پر روک دیا گیا اور لائف بوٹس کے ذریعے تلاشی کا عمل شروع کیا گیا۔ بدقسمتی سے، عملے کو پانچ لاشیں ملیں جنہیں احترام کے ساتھ جہاز پر منتقل کر دیا گیا۔ ابتدائی قیاس آرائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ افراد ممکنہ طور پر ان تارکینِ وطن میں شامل تھے جو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے اور حادثے کا شکار ہو گئے۔


یو ایس اے ٹوڈے (USA Today) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کروز لائن نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقامی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ سفائر پرنسس کروز شپ (sapphire princess cruise ship)  پر موجود مسافروں نے سوشل میڈیا پر اس المناک منظر کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے، جہاں ایک تفریحی سفر اچانک غم و اندوہ میں بدل گیا۔ کے جی ڈبلیو نیوز (KGW) کے مطابق، اطالوی اور یونانی کوسٹ گارڈز کو مطلع کر دیا گیا ہے تاکہ لاشوں کی شناخت اور دیگر لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا جا سکے۔


سفائر پرنسس کروز شپ (sapphire princess cruise ship)  کے اس واقعے نے ایک بار پھر بحیرہ روم میں غیر محفوظ سمندری سفر کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ کروز انتظامیہ نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور مسافروں کی نفسیاتی مدد کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں جنہوں نے یہ ہولناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ تحقیقات مکمل ہونے تک جہاز کو قریبی بندرگاہ پر روکا جا سکتا ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ یہ واقعہ سمندروں میں جاری انسانی المیے کی ایک دردناک یاد دہانی ہے۔