نیویارک کے لانگ آئی لینڈ کے ساحلی علاقوں میں ایک انتہائی خطرناک اور "گوشت خور"بیکٹیریا (bacteria) کی موجودگی نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ اسٹونی بروک یونیورسٹی کی رپورٹس کے مطابق، یہ بیکٹیریا جس کا سائنسی نام 'ویبریو ولنیفیکس' (Vibrio vulnificus) ہے، انسانی جسم کے لیے اس قدر مہلک ثابت ہو رہا ہے کہ اس سے متاثرہ افراد کے پاس زندگی بچانے کے لیے صرف 48 گھنٹے ہوتے ہیں، اور موت کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
نیویارک پوسٹ (New York Post) کی رپورٹ کے مطابق، یہ بیکٹیریا (bacteria) انسانی جسم کے کھلے زخموں کے ذریعے داخل ہوتا ہے یا کچے سمندری کھانے (Raw Shellfish) کے استعمال سے انفیکشن کا باعث بنتا ہے۔ گرسٹ (Grist) کی ایک معلوماتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سمندری درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ان بیکٹیریا کی نشوونما میں تیزی آئی ہے۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ گرم پانیوں میں تیراکی کرنے والے افراد، خاص طور پر وہ جن کی قوتِ مدافعت کمزور ہے، اس کا شکار ہونے کے زیادہ خطرے میں ہیں۔
اسٹونی بروک یونیورسٹی (Stony Brook University) میں 24 اپریل 2026 کو ہونے والی 'اسٹیٹ آف دی بیز' کانفرنس میں ماہرین نے واضح کیا کہ ساحلی آلودگی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس بیکٹیریا (bacteria) کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اب وقت آگیا ہے کہ پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، ورنہ یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ساحلی علاقوں میں جانے سے پہلے اپنے زخموں کو واٹر پروف پٹیوں سے ڈھانپیں اور سمندری خوراک کو اچھی طرح پکا کر کھائیں تاکہ اس مہلک انفیکشن سے بچا جا سکے۔
بیکٹیریا (bacteria) کی یہ حالیہ لہر عوامی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔ لانگ آئی لینڈ کے پانیوں میں اس کی موجودگی نے گرمیوں کے موسم کی تفریحی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور فوری علاج ہی اس انفیکشن سے بچنے کا واحد ذریعہ ہے۔ حکومت کی جانب سے ساحلوں پر آگاہی کے بینرز لگائے جا رہے ہیں اور پانی کے نمونوں کی روزانہ بنیادوں پر جانچ کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو کسی بھی بڑے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

