Bacteria and Polymer: What needs to be done to strengthen the immune system again?

Bacteria and Polymer: What needs to be done to strengthen the immune system again?

معالجاتی حیاتی کیمیا 

سخت جان بیکٹیریا (Bacteria)کے دشمن پولیمر (Polymer)

 مختلف ملے جلے پولیمروں سے ایسے بیکٹیریا(Bacteria) ختم کرنے کے کامیاب تجربات کئے گئے ہیں جو ادویہ سے مزاحمت پیدا کر کے سخت جان ہو چکے ہیں۔ میڈیسن، امریکہ میں واقع یونیورسٹی آف وسکنسن کے سائنسدان ایسے سالمات پر کام کر رہے ہیں جو مخصوص قسم کے چھوٹے پروٹین کی نقل کرتے ہیں جنہیں میزبان کے دفاعی پیپٹائڈز (ہوسٹ ڈیفنس پیپٹائڈز) کہا جاتا ہے۔ پودوں سے لے کر انسانوں تک، ہر جاندار کا قدرتی دفاعی نظام یہ پیپٹائڈز بناتا ہے۔ ان قدرتی ہتھیاروں کی نقل کیلئے سموئیل جلمین، شینن اسٹال اور ان کے تحقیقی معاونین نے بی ٹا لیکٹیمس نامی، ذیلی سالماتی یونٹوں کو مخصوص تراتیب سے آپس میں جوڑ کر کئی طرح کے پیپٹائڈ پولیمر بنائے۔ ان "باطرتیب" پولیمرز کی کارکردگی جانچنے کیلئے انہوں نے کچھ اور پولیمرز بھی بنائے جن کے سالماتی یونٹ بے ہنگم انداز سے آپس میں جوڑ دیئے گئے تھے۔


 مگر انہیں یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ بے ہنگم ترتیب والے پولیمرز نے منظم اور با ترتیب پولیمرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوبی سے جرثوموں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ علاوہ ازیں، پیپٹائڈ اور  بیکٹیریا(Bacteria) کی اس لڑائی میں بے ہنگم پولیمرز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے خون کے سرخ خلیات کی تعداد بھی بہت کم تھی۔ یعنی یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ان بے ہنگم پولیمرز کو انسانوں پر استعمال کرنے کی صورت میں ان کے ضمنی اثرات بھی خاصے کم ہوں گے۔

 مزید براں، بے ہنگم پولیمرز کی نسبتاً کم مقدار بھی ایسے جرثوموں کے لئے مہلک ثابت ہوئی جو ضد حیوی ادویہ (اینٹی بائیوٹکس) کے خلاف زبردست مزاحمت پیدا کر چکے ہیں۔


 تفصیلی مطالعے اور موازنے کے بعد جلمین اور ان کے رفقائے تحقیق نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ تین مختلف الاقسام قدرتی دفاعی پیپٹائڈز کے مقابلے میں ان بے ہنگم پولیمرز کی کارکردگی بہتر تھی، ان سے خون کے سرخ خلیات کم متاثر ہوئے، جبکہ انہوں نے قدرتی دفاعی پیپٹائڈز کے مقابلے میں کہیں زیادہ اقسام کے جرثوموں کا خاتمہ کیا۔ اسی بناء پر جلمین انہیں قدرتی دفاعی پیپٹائڈز سے زیادہ مؤثر قرار دے رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ بے ہنگم پولیمرز کی بنیاد پر جلد ہی ایسی ضد حیوی ادویہ تیار کر لی جائیں گی جو زیادہ با اثر اور کم خرچ تو ہوں گی ہی، ساتھ ہی ساتھ جراثیم میں ان کے خلاف مزاحمت بھی پیدا نہیں ہو پائے گی۔۔۔ کیونکہ بے ہنگم پولیمرز کا طریقہ واردات بالکل وہی ہے جو قدرتی ہوسٹ ڈیفنس پیپٹائڈز کا ہوتا ہے۔ یعنی وہ کسی جرثومے کی خلوی جھلی پر حملہ آور ہو کر اس میں شگاف ڈال دیتے ہیں، اور یوں اس کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ چونکہ اس پورے عمل کے دوران وہ کسی خاص مقام کو نشانہ بنانے کے بجائے خلوی جھلی پر عمومی حملہ کرتے ہیں، لہٰذا جرثومے کیلئے ان کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔


 وینکوور، کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے سائنس دان، رابرٹ ہینکاک نے بے ہنگم پولیمرز میں کمتر ضمنی اثرات کی دریافت پر خوشی کا اظہار کیا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ اس بارے میں بھی خبردار کیا ہے کہ شاید ایسی کسی بھی ضد حیوی دوا کی انسانی آزمائش کیلئے امریکی ادارہ غذا و زراعت (ایف ڈی اے) کی طرف سے اجازت ملنے میں کئی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔


 ان کا موقف ہے کہ اگرچہ بے ہنگم پولیمرز اپنی مجموعی ساخت کے اعتبار سے مفید ہیں، مگر یہ مختلف سالماتی یونٹوں اور ذیلی یونٹوں کا مجموعہ ہیں؛ اور ان میں سے ہر سالمہ اپنی انفرادی حیثیت میں جداگانہ اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا، کسی بھی انسانی آزمائش سے پہلے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ بے ہنگم پولیمرز میں شامل سالماتی یونٹوں میں سے ہر ایک کیسے اور کتنے شدید اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر یہ بھی محفوظ ثابت ہوئے، تب ہی ان کی ابتدائی انسانی آزمائشوں کی اجازت دی جائے گی، ورنہ نہیں۔