Epstein Files: US Congress Reveals Redacted Billionaire Names

Epstein Files: US Congress Reveals Redacted Billionaire Names

جیفری ایپسٹین فائلز(Epstein Files): امریکی کانگریس کے انکشافات سے عالمی کاروباری اور سیاسی دنیا میں بھونچال

امریکی تاریخ کے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین(Epstein) کی موت کے کئی سال بعد بھی اس کا تاریک سایہ دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کا پیچھا کر رہا ہے۔ حال ہی میں، امریکی کانگریس کے اراکین نے محکمہ انصاف (DOJ) کی تحقیقاتی فائلوں سے ان چھ ارب پتی افراد کے نام افشا کر دیے ہیں جنہیں پہلے "ریڈیکٹ" یعنی خفیہ رکھا گیا تھا۔ اس انکشاف نے واشنگٹن سے لے کر لندن اور نئی دہلی تک ایک بین الاقوامی طوفان کھڑا کر دیا ہے، جس سے نہ صرف بڑے کاروباری اداروں کو دھچکا لگا ہے بلکہ امریکی سیاست میں بھی ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔یہ مضمون آن لائن ٹرینڈ نیوز پلیٹ فارمز کی رپورٹ کی روشنی میں ان انکشافات، ان کے پس پردہ سیاسی جنگ، اور عالمی سطح پر ہونے والے اس کے اثرات کا گہرائی سے جائزہ لے گا۔

Jeffrey Epstein Files: US Congressional revelations shake up global business and political world, Jeffrey Epstein, the most notorious sex offender,

وہ چھ نام جنہوں نے ہلچل مچا دی

اس پورے معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب ڈیموکریٹک کانگریس مین رو کھنہ (Ro Khanna) نے ایوان نمائندگان میں اپنی تقریر کے دوران ان چھ ارب پتی افراد کے ناموں سے پردہ اٹھایا۔ان ناموں میں وکٹوریہ سیکرٹ کی بنیادی کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو لیزلی ویکسز (Leslie Wexner) اور دبئی میں قائم عالمی لاجسٹکس کمپنی ڈی پی ورلڈ (DP World) کے چیف ایگزیکٹو سلطان احمد بن سلیم (Sultan Ahmed bin Sulayem) جیسے بڑے نام شامل تھے۔ دیگر ناموں میں سلواٹور نوارا، زوراب میکیلادزے، لیونک لیونوف، اور نکولا کپوٹو شامل تھے۔  کانگریس مین رو کھنہ اور ان کے ریپبلکن ساتھی تھامس میسی (Thomas Massie) نے محکمہ انصاف میں ان فائلوں کا بغیر ترمیم کے معائنہ کیا تھا، جس کے بعد یہ انکشافات سامنے آئے۔


محکمہ انصاف پر "کور اپ" کے الزامات

اگرچہ ان جاری کردہ ریکارڈز میں ان افراد کے خلاف کسی مخصوص مجرمانہ سرگرمی کا الزام نہیں لگایا گیا، لیکن کانگریس مین کھنہ نے محکمہ انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان ناموں کو "بغیر کسی واضح وجہ کے" چھپایا گیا تھا۔  انہوں نے مزید کہا، "اگر ہم نے دو گھنٹے میں چھ ایسے نام ڈھونڈ نکالے جنہیں وہ چھپا رہے تھے، تو تصور کریں کہ وہ ان 30 لاکھ فائلوں میں مزید کتنے لوگوں پر پردہ ڈال رہے ہیں۔" اس کے جواب میں، محکمہ انصاف کے ترجمان نے یہ کہہ کر اپنے عمل کا دفاع کیا کہ لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات میں غلطیاں ہونا ناگزیر ہے اور کچھ نام حادثاتی طور پر بھی خفیہ رہ گئے ہوں گے۔  یہ معاملہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اٹارنی جنرل پام بونڈی (Pam Bondi) کو ایوان کی جوڈیشری کمیٹی کے سامنے ایک گرما گرم سماعت کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس کے ڈیموکریٹک اراکین نے پام بونڈی پر ایپسٹین ریکارڈز کے حوالے سے "کور اپ" یعنی پردہ پوشی کا الزام لگایا۔


ٹرمپ کا نام اور سیاسی جنگ

کمیٹی کے ایک اہم رکن، نمائندہ جیمی راسکن (Jamie Raskin) نے نہ صرف ریکارڈز جاری کرنے کی سست رفتاری پر تنقید کی بلکہ یہ بھی الزام لگایا کہ محکمہ انصاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "انتقام کا آلہ" بن چکا ہے اور ان کے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس سیاسی جنگ کو مزید ہوا اس وقت ملی جب راسکن نے انکشاف کیا کہ انہوں نے جب ان فائلوں کے ڈیٹا بیس میں "ٹرمپ" کا نام تلاش کیا تو "دس لاکھ سے زیادہ نتائج" سامنے آئے۔ اگرچہ انہوں نے یہ واضح کیا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ ہر نتیجہ صدر ٹرمپ سے ہی متعلق تھا، لیکن انہوں نے 2009 کی ایک ای میل کا حوالہ دیا جو بظاہر ٹرمپ کے اس دعوے کی نفی کرتی ہے کہ انہوں نے  ایپسٹین(Epstein)   کو اپنے مار-اے-لاگو کلب سے نکال دیا تھا۔ یہ انکشافات ایپسٹین کیس کو ایک مجرمانہ اسکینڈل سے بڑھا کر ایک بڑے سیاسی ہتھیار میں تبدیل کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی کاروباری دنیا میں ہلچل

ناموں کے افشا ہوتے ہی اس کے اثرات فوری طور پر عالمی کاروباری منظرنامے پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ ڈی پی ورلڈ کے سی ای او سلطان احمد بن سلیم کا نام سامنے آنے کے بعد، برطانیہ کی ترقیاتی مالیاتی ایجنسی (British International Investment) اور کینیڈا کے دوسرے سب سے بڑے پنشن فنڈ (La Caisse) نے ڈی پی ورلڈ کے ساتھ نئی سرمایہ کاری معطل کر دی ہے۔ فائلوں سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ بن سلیم نے ایپسٹین کے ساتھ کاروبار، جنسی معاملات، اور  ایپسٹین(Epstein)   کے کیریبین جزیرے پر جانے کے منصوبوں کے بارے میں خط و کتابت کی تھی۔  برطانوی ایجنسی نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ "ان الزامات سے صدمے میں ہیں" اور اس وقت تک سرمایہ کاری روک دیں گے جب تک ڈی پی ورلڈ کوئی کارروائی نہیں کرتی۔  یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ  ایپسٹین(Epstein)   کا نام اب کاروباری ساکھ کے لیے ایک زہر قاتل بن چکا ہے۔


بھارتی وزیر کا اعتراف اور نئی دہلی میں بحث

اس اسکینڈل کی لہریں بھارت تک بھی پہنچیں۔ بھارت کے وزیر تیل، ہردیپ سنگھ پوری، نے پارلیمنٹ میں اعتراف کیا کہ وہ ایپسٹین سے "تین یا زیادہ سے زیادہ چار بار" ملے تھے جب وہ نیویارک میں انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتے تھے۔  اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے، پوری نے کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی ملاقاتوں کا مقصد لنکڈ ان (LinkedIn) کے بانی ریڈ ہافمین (Reid Hoffman) سے رابطہ کرنا تھا تاکہ بھارت میں کاروباری امکانات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ اگرچہ انہوں نے غلط کام سے انکار کیا، لیکن  ایپسٹین(Epstein)   جیسے بدنام شخص سے ملاقات کا اعتراف ہی بھارتی سیاست میں ایک گرما گرم بحث چھیڑنے کے لیے کافی ہے۔


 ایک نہ ختم ہونے والا اسکینڈل

جیفری ایپسٹین(Epstein)   کی فائلز سے ناموں کا یہ انکشاف اس کہانی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ باب کا آغاز ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایپسٹین کا نیٹ ورک کس قدر وسیع اور گہرا تھا، جس میں دنیا کے طاقتور ترین سیاسی اور کاروباری حلقوں کے لوگ شامل تھے۔ محکمہ انصاف پر پردہ پوشی کے الزامات اور اس معاملے کا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال اس اسکینڈل کو مزید متنازعہ بنا رہا ہے۔ جیسے جیسے مزید فائلیں سامنے آئیں گی، یہ دیکھنا باقی ہے کہ اور کتنے طاقتور ستون لرزتے ہیں اور اس تاریک کہانی کے مزید کتنے راز افشا ہوتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ جیفری ایپسٹین کا بھوت آنے والے کئی سالوں تک عالمی اشرافیہ کو ستاتا رہے گا۔