فٹ بال کی دنیا کا بے تاج بادشاہ اٹلی اب کرکٹ کے میدانوں میں اپنی قسمت آزمانے کے لیے تیار ہے۔ کولکتہ کے تاریخی ایڈن گارڈنز میں پیر کے روز ہونے والا اسکاٹ لینڈ بمقابلہ اٹلی (scotland vs italy) مقابلہ کرکٹ کی تاریخ کے چند یادگار لمحات میں سے ایک ہوگا، کیونکہ یہ اٹلی کا کسی بھی کرکٹ ورلڈ کپ میں پہلا قدم ہے۔ اگرچہ اٹلی چار بار فٹ بال ورلڈ کپ جیت چکا ہے، لیکن کرکٹ میں وہ اب بھی ایک ابھرتی ہوئی ٹیم ہے جسے ماہرین 'معجزہ' قرار دے رہے ہیں۔ اطالوی کرکٹ فیڈریشن کے ڈویلپمنٹ آفیسر ریکارڈو میگیو کا کہنا ہے کہ یہ ایک 'اطالوی معجزہ' (miracolo Italiano) ہے کہ ایک فٹ بال کے دیوانے ملک سے کرکٹ کی ٹیم ورلڈ کپ کے ایلیٹ گروپ تک پہنچ گئی ہے۔ اس ایونٹ میں اٹلی سب سے کم رینکنگ والی ٹیم ہے، لیکن ان کا عزم ہمالیہ سے بھی بلند ہے۔
اسکاٹ لینڈ بمقابلہ اٹلی (scotland vs italy) میچ کی خاص بات اٹلی کے کپتان وائن میڈسن ہیں، جو 42 سال کی عمر میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کرنے جا رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے میڈسن اس سے قبل جنوبی افریقہ کی جانب سے ہاکی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں اور اب وہ اٹلی کی جانب سے کرکٹ ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی قیادت کریں گے۔ اٹلی نے کوالیفائرز میں اسکاٹ لینڈ کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا تھا، اور اب عالمی اسٹیج پر دوبارہ ان کا سامنا کرنا اطالوی کھلاڑیوں کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ اٹلی کی ٹیم میں جنوبی افریقہ کے سابق ٹی 20 کھلاڑی جے جے اسمتس بھی شامل ہیں، جو شادی کے بعد اطالوی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اٹلی میں کرکٹ کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ 1793 میں برطانوی نیول ہیرو ہوراشیو نیلسن نے نیپلز میں پہلا ریکارڈ شدہ میچ منعقد کروایا تھا۔ اٹلی کے مشہور فٹ بال کلب 'جینوا' (Genoa) کا پورا نام آج بھی 'جینوا کرکٹ اینڈ فٹ بال کلب' ہے، جبکہ اے سی میلان (AC Milan) کی بنیاد بھی 1899 میں 'میلان فٹ بال اینڈ کرکٹ کلب' کے طور پر رکھی گئی تھی۔ ریکارڈو میگیو، جو 1998 میں انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دینے والی اطالوی ٹیم کا حصہ تھے، آج اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ میں انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیپال جیسی ٹیموں کے خلاف کھیلتا دیکھ کر آبدیدہ ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اٹلی صرف ایک بار شرکت کے لیے نہیں آیا، بلکہ وہ یہاں اپنی جگہ بنانے آئے ہیں۔
اسکاٹ لینڈ بمقابلہ اٹلی (scotland vs italy) کا یہ مقابلہ اطالوی کرکٹ کے لیے ایک "میسیو بوسٹ" ثابت ہوگا۔ کپتان میڈسن کے مطابق، جب اطالوی عوام اپنی ٹیم کو عالمی سطح پر مقابلہ کرتے دیکھیں گے، تو اس سے ملک میں کرکٹ کے لیے نئی دلچسپی پیدا ہوگی۔ اٹلی کی ٹیم تنوع کا بہترین نمونہ ہے، جس میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور ایشیائی نژاد اطالوی کھلاڑی شامل ہیں، جو اپنے ملک کے بیج کی خاطر میدان میں اتریں گے۔ ایڈن گارڈنز کے تماشائی بھی ایک ایسی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے پرجوش ہیں جو فٹ بال کے میدانوں سے نکل کر کرکٹ کی دنیا میں معجزہ دکھانے آئی ہے۔
اٹلی کی کرکٹ ٹیم نے یہاں تک پہنچ کر پہلے ہی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اسکاٹ لینڈ بمقابلہ اٹلی (scotland vs italy) میچ کا نتیجہ جو بھی ہو، اطالوی کرکٹرز کا جذبہ اور 'اطالوی معجزہ' دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے دل جیتنے کے لیے کافی ہے۔ پیر کا دن ایڈن گارڈنز میں صرف ایک کرکٹ میچ کا نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر کا دن ہوگا، جہاں نیلے رنگ کی جرسی میں ملبوس کھلاڑی اپنی قومی پہچان کو ایک نئے کھیل میں منوانے کی کوشش کریں گے۔

