پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک بڑی قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں قومی احتساب بیورو (NAB) نے سابق وزیراعظم نواز شریف (nawaz sharif) اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر ملز (CSM) کیس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سات سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والا یہ کیس، جو مبینہ منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے گرد گھومتا تھا، اب اپنے اختتام کے قریب ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد نیب اس معاملے کو ٹرائل کورٹ میں باقاعدہ برخاستگی کے لیے لے جائے گا۔ یہ کیس نہ صرف شریف خاندان کے کاروباری سلطنت کا ایک اہم حصہ رہا ہے بلکہ یہ پاکستان میں سیاست اور شوگر انڈسٹری کے گہرے گٹھ جوڑ کی ایک واضح مثال بھی ہے۔ اگست 2019 میں اسی کیس کی بنیاد پر مریم نواز کی کوٹ لکھپت جیل سے ڈرامائی گرفتاری عمل میں آئی تھی، جس نے ملکی سیاست میں ایک نیا رخ پیدا کر دیا تھا۔
چوہدری شوگر ملز کا معاملہ محض ایک مالیاتی تحقیقات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ نواز شریف (nawaz sharif) کے خاندان اور شوگر انڈسٹری کے اثر و رسوخ کی داستان بیان کرتا ہے۔ پاکستان میں شوگر انڈسٹری کو سیاسی طور پر سب سے زیادہ بااثر شعبہ مانا جاتا ہے، جہاں شریف خاندان کے علاوہ چوہدری برادران اور پیپلز پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کے مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ چوہدری شوگر ملز ان پانچ ملوں میں سے ایک تھی جسے شریف خاندان نے وسطی پنجاب سے جنوبی پنجاب منتقل کرنے کی کوشش کی تھی، کیونکہ وسطی پنجاب میں گنے کی کاشت کم مسابقتی ہو رہی تھی۔ اس کیس کی بندش سے شریف خاندان پر لگے منی لانڈرنگ کے الزامات کا بوجھ تو کم ہوا ہے، لیکن اس نے احتسابی عمل اور سیاسی اثر و رسوخ کے حوالے سے کئی نئے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف (nawaz sharif) اور ان کے خاندان کے لیے اس کیس کا خاتمہ ایک بڑی سیاسی فتح ہے۔ تحقیقات کے دوران نیب کا موقف تھا کہ مل کے حصص (Shares) کی منتقلی میں بے ضابطگیاں کی گئیں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نام پر رقوم کی منتقلی مشکوک تھی۔ تاہم، برسوں کی تگ و دو اور عدالتوں میں مقدمات کے بعد، ثبوتوں کی عدم دستیابی یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث نیب نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب مریم نواز پنجاب کی قیادت کر رہی ہیں اور شریف خاندان اپنی سیاسی ساکھ کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
پاکستان کی شوگر انڈسٹری میں سیاسی اشرافیہ کی موجودگی نے ہمیشہ اس شعبے کو تنازعات کا مرکز بنائے رکھا ہے۔ نواز شریف (nawaz sharif) کی سیاسی زندگی میں چوہدری شوگر ملز کیس ایک ایسا کانٹا تھا جس نے اپوزیشن کو تنقید کا بھرپور موقع فراہم کیا۔ اس کیس کی بندش کے معنی جہاں شریف خاندان کے لیے ریلیف ہیں، وہیں یہ پاکستان کے کمزور احتسابی نظام کی بھی عکاسی کرتا ہے جہاں بڑے مقدمات اکثر منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ شوگر مافیا اور سیاسی اثر و رسوخ کے گرد گھومنے والی یہ کہانی اب اپنے آخری باب میں داخل ہو چکی ہے، لیکن اس کے اثرات پاکستانی سیاست پر دیرپا رہیں گے۔
چوہدری شوگر ملز کیس کی بندش نواز شریف (nawaz sharif) اور مریم نواز کے لیے ایک بہت بڑا قانونی ریلیف ہے۔ سات سالہ طویل جدوجہد کے بعد اس کیس کا خاتمہ اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی میدان میں قانونی چیلنجز اکثر وقت اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ اگرچہ قانونی ضابطے ابھی باقی ہیں، لیکن عملی طور پر یہ کیس اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شریف خاندان اس قانونی ریلیف کو اپنی مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی میں کس طرح استعمال کرتا ہے۔

