پاکستان کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ (qamar javed bajwa) کو گرنے کے باعث لگنے والی چوٹوں کے بعد راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ ڈان نیوز (DAWN) اور اے آر وائی نیوز (ARY News) کی رپورٹس کے مطابق، سابق آرمی چیف اپنے گھر میں توازن برقرار نہ رکھ سکے اور گر پڑے، جس کے نتیجے میں انہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور وہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ (qamar javed bajwa) کو پیش آنے والا یہ حادثہ اس وقت ہوا جب وہ اپنی رہائش گاہ پر چہل قدمی کر رہے تھے۔ اے آر وائی نیوز (ARY News) نے اطلاع دی ہے کہ گرنے کی وجہ سے انہیں جسم کے کچھ حصوں پر چوٹیں آئی ہیں، تاہم ابتدائی طبی معائنے اور ٹیسٹوں کے بعد ڈاکٹروں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا گیا ہے اور جلد ہی انہیں ڈسچارج کر دیا جائے گا۔
جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ (qamar javed bajwa) نومبر 2022 میں اپنی چھ سالہ طویل مدتِ ملازمت مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے تھے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے وہ زیادہ تر گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے ہیں، تاہم ان کی صحت کے حوالے سے آنے والی اس خبر نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ڈان نیوز (DAWN) کے مطابق، متعدد اعلیٰ حکام اور سابق فوجی افسران نے ان کی خیریت دریافت کی ہے اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔
سابق آرمی چیف کے دورِ ملازمت کو پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اکثر ملکی خبروں کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ قمر جاوید باجوہ (qamar javed bajwa) کی ہسپتال میں موجودگی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ان کی رازداری اور آرام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے اہل خانہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور ان کی مکمل صحت یابی کے لیے دعا کریں۔
جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ (qamar javed bajwa) کی حالت اب بہتر بتائی جا رہی ہے اور وہ ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی میں ریکوری کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی گھر منتقل ہو جائیں گے۔ ان کی صحت کے حوالے سے مزید اپ ڈیٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم اب تک کی اطلاعات کے مطابق پریشانی کی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

