امریکی اٹارنی جنرل پیم بونڈی (pam bondi) کو ایوانِ نمائندگان کی اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے ایک سخت سماعت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں ڈیموکریٹس نے ان پر جیفری ایپسٹین کیس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے اور اہم دستاویزات کو چھپانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ دی گارڈین، نیویارک ٹائمز اور بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق، 11 فروری 2026 کو ہونے والی اس سماعت میں بونڈی سے ایپسٹین کی فائلوں کی رازداری اور محکمہ انصاف کے کردار کے بارے میں تیکھے سوالات کیے گئے۔ ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ بونڈی انتظامیہ بااثر شخصیات کو بچانے کے لیے حقائق کو منظرِ عام پر لانے سے گریز کر رہی ہے، جبکہ پیم بونڈی نے ان الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز (The New York Times) کے مطابق، سماعت کے دوران اصل تنازعہ ان لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات کا ہے جو ایپسٹین کے جنسی جرائم کے نیٹ ورک سے متعلق ہیں۔ پیم بونڈی (pam bondi) نے دلائل دیے کہ کچھ دستاویزات کی حساسیت اور متاثرین کی رازداری کے تحفظ کے لیے ان کا اخفا ضروری ہے، لیکن ڈیموکریٹس نے الزام لگایا کہ بونڈی ان دستاویزات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ بونڈی نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ "ہمارا مقصد انصاف ہے، سیاست نہیں،" اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ انصاف قانون کے مطابق کام کر رہا ہے۔
بی بی سی (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، سماعت اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب ڈیموکریٹک نمائندوں نے جیزلین میکسویل کی جانب سے صدر ٹرمپ سے معافی کی درخواست اور اس سلسلے میں پیم بونڈی (pam bondi) کے ممکنہ کردار پر سوالات اٹھائے۔ بونڈی نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی مجرم کو رعایت دینے کے حق میں نہیں ہیں، تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا اس معاملے پر وائٹ ہاؤس میں کوئی بات چیت ہوئی ہے یا نہیں۔ ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا کہ تمام 'غیر ترمیم شدہ' (Un-redacted) فائلیں فوری طور پر کمیٹی کے حوالے کی جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
دی گارڈین (The Guardian) نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پیم بونڈی (pam bondi) کی یہ گواہی بائیڈن دور کے برعکس موجودہ انتظامیہ کی ترجیحات کو ظاہر کرتی ہے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ بونڈی کا رویہ متاثرین کے بجائے طاقتور افراد کے تحفظ کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب، ریپبلکن اراکین نے بونڈی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں۔ سماعت کے اختتام پر کوئی حتمی نتیجہ تو سامنے نہیں آ سکا، لیکن اس نے ایپسٹین کیس سے جڑی فائلز اور ان میں چھپے ناموں کے گرد پراسراریت کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
پیم بونڈی (pam bondi) کی سماعت نے امریکی سیاست میں ایک نیا بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف انصاف کی دہائی دینے والے متاثرین ہیں اور دوسری طرف قانونی پیچیدگیوں اور سیاسی مفادات کی جنگ۔ بونڈی کے جوابات نے ڈیموکریٹس کو مطمئن نہیں کیا، اور اب یہ معاملہ مزید عدالتی جنگ کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اب ان فائلوں پر ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ کئی طاقتور چہروں کو بے نقاب کر سکتی ہیں۔

