Iran Offers to Dilute Enriched Uranium if US Lifts All Sanctions

Iran Offers to Dilute Enriched Uranium if US Lifts All Sanctions

ایران (Iran) نے امریکہ کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں ایک بڑا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس پر عائد تمام مالی پابندیاں ختم کر دی جائیں، تو وہ اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کو کم کرنے (Dilute) پر غور کر سکتا ہے۔ ایران (Iran)  کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے کا انحصار مکمل طور پر پابندیوں کے خاتمے پر ہے۔ رائٹرز (Reuters) کی رپورٹ کے مطابق، یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے عمان میں عمانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے سفارت کاروں کے درمیان اہم بات چیت ہوئی ہے۔ یہ مذاکرات خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور سابقہ حملوں کے تناظر میں سفارت کاری کو بحال کرنے کی ایک کوشش قرار دیے جا رہے ہیں۔

Iran says it could dilute its 60% enriched uranium if all financial sanctions are removed. Read about the latest US-Iran nuclear talks in Oman and Ali

اقوام متحدہ کی ایٹمی ایجنسی کے مطابق ایران (Iran)  کے پاس اس وقت 440 کلوگرام سے زائد ایسا یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے، جو کہ ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی سے محض ایک قدم دور ہے۔ واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ ایران اس ذخیرے سے دستبردار ہو جائے، تاہم محمد اسلامی نے واضح کیا کہ افزودہ یورینیم کو کسی دوسرے ملک بھیجنے کی تجویز پر تاحال کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ تہران کا موقف ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام خالصتاً پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن گزشتہ سال ایرانی تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تہران نے اپنی پوزیشن مزید سخت کر لی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر امریکہ منصفانہ رویہ اپنائے تو اس مسئلے کا متوازن حل نکالا جا سکتا ہے۔


سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر علی لاریجانی منگل کے روز عمان کا دورہ کریں گے۔ ایران (Iran)  کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، لاریجانی عمانی حکام سے ملاقاتوں میں علاقائی و بین الاقوامی صورتحال اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دوسری جانب، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں ایرانی عوام سے 1979 کے انقلاب کی سالگرہ میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے، تاکہ دشمن کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ایرانی عوام اپنی اسلامی جمہوریہ کے ساتھ وفادار ہیں۔ امریکہ اب بھی مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو شامل کرنے پر بضد ہے، جسے تہران نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔


ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران (Iran)  کی جانب سے یورینیم کی تخفیف کی پیش کش ایک تزویراتی چال ہو سکتی ہے تاکہ عالمی برادری کو اپنی نیک نیتی کا یقین دلایا جا سکے۔ تاہم، واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا سخت گیر رویہ ان مذاکرات کی کامیابی میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ ایران نے افزودگی کی سرگرمیاں روکنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن عالمی ایجنسیوں کی مانیٹرنگ اور پابندیوں کے خاتمے کے طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں۔ عمان میں ہونے والے اگلے دورِ مذاکرات کے مقام اور تاریخ کا اعلان جلد متوقع ہے، جو خطے میں امن یا مزید کشیدگی کا فیصلہ کرے گا۔


ایران (Iran)  اور امریکہ کے درمیان ایٹمی معاملے پر برف پگھلنے کے آثار تو دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اعتماد کا فقدان تاحال برقرار ہے۔ پابندیوں کا خاتمہ تہران کے لیے سب سے اہم مطالبہ ہے، جبکہ واشنگٹن مکمل ایٹمی تخفیف چاہتا ہے۔ علی لاریجانی کا دورہ عمان اس سلسلے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ براہ راست سپریم لیڈر کے پیغامات پہنچائیں گے۔ آنے والے چند ہفتے اس حساس معاملے میں حتمی فیصلے کے لیے کلیدی ثابت ہوں گے۔