Ghislaine Maxwell Pleads the Fifth, Eyes Pardon from Donald Trump - Epstein files

Ghislaine Maxwell Pleads the Fifth, Eyes Pardon from Donald Trump - Epstein files

بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین (Epstein) کی قریبی ساتھی گیسلین میکسویل نے پیر کے روز امریکی ایوانِ نمائندگان کی اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ٹیکساس کی جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے والی میکسویل نے، جو انسانی اسمگلنگ کے جرم میں 20 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں، امریکی آئین کی پانچویں ترمیم (Fifth Amendment) کا سہارا لیتے ہوئے خاموش رہنے کے حق کا استعمال کیا۔ ریپبلکن کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے اس پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایپسٹین اور میکسویل کے جرائم اور ان کے ممکنہ شریکِ کار افراد کے بارے میں سچ جاننا چاہتے تھے۔ اس دورانڈونلڈ ٹرمپ (donald trump)  کا تذکرہ بھی بار بار سامنے آیا، کیونکہ میکسویل کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی مؤکلہ صدر ٹرمپ کی جانب سے معافی (Clemency) ملنے کی صورت میں تمام حقائق بتانے کے لیے تیار ہیں۔

Convicted associate Ghislaine Maxwell refuses to answer House Committee questions, seeking clemency from Donald Trump. the Epstein investigation, news

کمیٹی کے ڈیموکریٹک رکن رو کھنہ نے واضح کیا کہ وہ میکسویل سے ڈونلڈ ٹرمپ (donald trump)  کے ساتھ ان کے سماجی تعلقات اور صدر کی جانب سے ممکنہ معافی کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں پوچھنا چاہتے تھے۔ اگرچہ ٹرمپ نے ہمیشہ ایپسٹین (Epstein)  کے ساتھ کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے اور ان پر کسی جرم کا الزام بھی نہیں ہے، لیکن میکسویل کی خاموشی اور ان کے وکیل کے بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وکیل ڈیوڈ آسکر مارکس کے مطابق، صرف میکسویل ہی اس پورے معاملے کا مکمل احوال بتا سکتی ہیں، بشرطیکہ انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ میکسویل کو کسی قسم کی رعایت دینے پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔


ایپسٹین (Epstein)  کے متاثرین نے قانون سازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ میکسویل کی کسی بھی معلومات پر آسانی سے یقین نہ کریں، کیونکہ وہ ماضی میں بھی بااثر مردوں کے نام بتانے سے انکار کرتی رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میکسویل نے اس سے قبل ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی تھی، جو ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ (donald trump)  کے ذاتی وکیل رہ چکے ہیں۔ اس ملاقات کے ٹرانسکرپٹ کے مطابق، میکسویل نے کہا تھا کہ انہوں نے ٹرمپ یا سابق صدر بل کلنٹن کی جانب سے کبھی کوئی غیر مناسب رویہ نہیں دیکھا اور "کلائنٹ لسٹ" جیسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تاہم، اب ان کا خاموش رہنا ان کے سابقہ طرزِ عمل کے متضاد قرار دیا جا رہا ہے۔


یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی محکمہ انصاف نے کانگریس کے حکم پر ایپسٹین (Epstein)  کیس سے متعلق تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل نئی دستاویزات جاری کی ہیں۔ پیر سے اراکینِ کانگریس ان دستاویزات کے غیر ترمیم شدہ (Un-redacted) ورژن دیکھ سکیں گے۔ جیمز کومر کا کہنا ہے کہ وہ ان دستاویزات کے ذریعے سچائی تک پہنچنے کی کوشش کریں گے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ (donald trump)  کی انتظامیہ کے عہدیدار کسی بھی قسم کی پردہ پوشی کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔ متاثرین اب بھی مکمل شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ ان بااثر افراد کے نام سامنے آ سکیں جو اس گھناؤنے نیٹ ورک کا حصہ تھے۔


گیسلین میکسویل کی خاموشی نے ایپسٹین کیس کی تحقیقات کو ایک پیچیدہ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ (donald trump)  سے معافی کی امید اور لاکھوں صفحات پر مشتمل نئی دستاویزات اس کیس کو دوبارہ شہ سرخیوں میں لے آئی ہیں۔ اگرچہ میکسویل نے فی الحال کچھ بتانے سے انکار کر دیا ہے، لیکن امریکی عوام اور متاثرین کو امید ہے کہ جاری ہونے والی دستاویزات سے وہ سچ سامنے آ جائے گا جسے چھپانے کی برسوں سے کوشش کی جا رہی ہے۔ اب تمام تر نظریں ان خفیہ دستاویزات پر جمی ہیں جن کا معائنہ کانگریس اراکین شروع کر چکے ہیں۔