پاکستان کے مشہور سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والی معروف مصنفہ اور کالم نگار فاطمہ بھٹو (fatima bhutto) نے اپنی نئی یادداشتوں میں اپنی زندگی کے ان پہلوؤں سے پردہ اٹھایا ہے جنہوں نے عالمی میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ دی گارڈین، ایکسپریس ٹریبیون اور ووکل میڈیا کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، فاطمہ بھٹو (fatima bhutto) نے اپنی کتاب میں سیاسی اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ اپنی نجی زندگی میں پیش آنے والے "ذاتی صدمے" اور "جبر و استحصال" (Coercive Control) کی لرزہ خیز تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان کی یہ تحریر صرف ایک خاندان کی سیاسی تاریخ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس نے سیاسی ڈراموں اور ذاتی تکالیف کے درمیان خود کو سنبھالا اور اب وہ اپنی خاموشی توڑ کر دنیا کو سچائی سے آگاہ کر رہی ہیں۔
دی گارڈین (The Guardian) کے حالیہ پوڈ کاسٹ کے مطابق، فاطمہ بھٹو (fatima bhutto) نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح وہ ایک طویل عرصے تک ایک ایسے تعلق میں رہیں جہاں انہیں نفسیاتی طور پر قابو کرنے (Coercive Control) کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جھوٹ اور رازوں نے ان کی زندگی کو کس طرح متاثر کیا اور اس سے باہر نکلنے کے لیے انہیں کتنی ہمت جمع کرنی پڑی۔ ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، فاطمہ کی یہ کتاب سیاسی دنیا کے پردے کے پیچھے چھپے ان دکھوں کی عکاسی کرتی ہے جو عام طور پر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی موروثی سیاست کے بوجھ اور اپنی انفرادی پہچان کے درمیان ہونے والی جنگ کو انتہائی مہارت سے قلمبند کیا ہے۔
ووکل میڈیا (Vocal Media) کی رپورٹ میں فاطمہ بھٹو کے اس سفر کو "سیاسی ڈرامے سے ذاتی صدمے تک" کا نام دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فاطمہ بھٹو (fatima bhutto) نے اپنی کتاب میں اس بات پر زور دیا ہے کہ طاقتور گھرانوں کی خواتین کو بھی ان ہی سماجی اور جذباتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا سامنا ایک عام عورت کو ہوتا ہے۔ ان کی یادداشتیں قارئین کو بتاتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنے خاندان کے المناک ماضی کے سائے سے نکل کر اپنی آواز خود پیدا کی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، اس کتاب کی اشاعت نے نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ سیاسی ایوانوں میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ اس میں کئی ایسے حقائق بیان کیے گئے ہیں جو اس سے قبل کبھی سامنے نہیں آئے تھے۔
دی گارڈین (The Guardian) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ فاطمہ بھٹو کی کہانی ان تمام خواتین کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو کسی بھی قسم کے جبر کا شکار ہیں۔ فاطمہ بھٹو (fatima bhutto) نے واضح کیا کہ ان کی کتاب کا مقصد کسی پر الزام تراشی نہیں بلکہ اپنی سچائی کو بیان کرنا اور زخموں سے شفا پانا ہے۔ ووکل میڈیا کے مطابق، کتاب کی زبان انتہائی سادہ اور پراثر ہے، جو قاری کو فاطمہ کے احساسات سے براہِ راست جوڑ دیتی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، پاکستان میں اس یادداشت کے اردو ترجمے کی بھی شدید طلب ہے، کیونکہ بھٹو خاندان کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے لوگ فاطمہ کے اس نئے اور بہادرانہ موقف کو جاننا چاہتے ہیں۔
فاطمہ بھٹو (fatima bhutto) کی نئی کتاب ان کی زندگی کی سب سے مشکل اور سچی تحریر ثابت ہوئی ہے۔ دی گارڈین (The Guardian) کی رپورٹ کے مطابق، اس یادداشت نے ثابت کیا ہے کہ خاموشی سے زیادہ سچ بولنے میں طاقت ہے۔ فاطمہ بھٹو (fatima bhutto) نے اپنی زندگی کے پوشیدہ گوشوں کو دنیا کے سامنے پیش کر کے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کا خلاصہ ہے کہ یہ کتاب سیاسی خاندانوں کی اگلی نسل کے لیے اپنی راہ خود متعین کرنے کا ایک منشور ہے۔ ووکل میڈیا (Vocal Media) کے مطابق، یہ یادداشتیں برسوں تک اپنی بے باکی اور انسانی ہمت کی وجہ سے یاد رکھی جائیں گی۔

