لاہور کے شہریوں کے لیے فروری کا آغاز مسلسل پانچ روزہ basant holidays in lahore اور دیگر تقریبات کی صورت میں ایک بڑی خوشخبری لے کر آیا ہے، تاہم انتظامیہ نے بسنت کے نام پر کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے خلاف "زیرو ٹولرینس" کی پالیسی اپنا لی ہے۔ ڈان نیوز، دی نیشن اور ڈیلی ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق، 4 فروری کو حضرت داتا گنج بخشؒ کے عرس سے شروع ہونے والا چھٹیوں کا یہ سلسلہ 8 فروری تک جاری رہے گا۔ جہاں ایک طرف شہر میں جشن کا سماں ہے، وہیں سی سی پی او (CCPO) لاہور نے واضح کیا ہے کہ ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش اور خونی ڈور کے ساتھ پتنگ بازی کرنے والوں کو جیل جانا پڑے گا تاکہ ان تعطیلات کے دوران شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈیلی ٹائمز (Daily Times) کی رپورٹ کے مطابق، لاہور میں مسلسل پانچ تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے جن کا آغاز بدھ (4 فروری) کو عرسِ داتا صاحب کی مقامی چھٹی سے ہوگا۔ اس کے فوراً بعد 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کی قومی تعطیل اور پھر ویک اینڈ کے باعث شہریوں کو ایک طویل بریک ملے گا۔ ان basant holidays in lahore کے دوران توقع کی جا رہی ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں تفریحی مقامات کا رخ کریں گے۔ ڈان نیوز (Dawn News) کے مطابق، ان تعطیلات کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے اور دفاتر بند رہیں گے، جبکہ ہسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
دی نیشن (The Nation) کی رپورٹ کے مطابق، سی سی پی او لاہور نے بسنت کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قانون شکنی کے خلاف سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ "زیرو ٹولرینس" پالیسی کے تحت ہوائی فائرنگ اور دھاتی ڈور بنانے یا بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے۔ ان basant holidays in lahore کے دوران ڈرونز اور خفیہ کیمروں کے ذریعے شہر کی چھتوں کی نگرانی کی جائے گی۔ ڈان نیوز کے مطابق، عرسِ داتا صاحب کے موقع پر زائرین کی بڑی تعداد کی آمد کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں اور ٹریفک پولیس نے متبادل راستوں کا پلان بھی جاری کر دیا ہے تاکہ شہر میں آمد و رفت متاثر نہ ہو۔
ڈیلی ٹائمز (Daily Times) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان چھٹیوں سے سیاحت اور ہوٹلنگ کی صنعت کو فروغ ملے گا، تاہم بسنت کے شوقین افراد کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی ایسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں جو دوسروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو۔ basant holidays in lahore کے دوران یومِ یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے بھی شہر میں مختلف ریلیاں نکالی جائیں گی۔ دی نیشن کے مطابق، ضلعی انتظامیہ نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے علاقوں میں دفعہ 144 کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو غیر قانونی پتنگ بازی اور خطرناک ڈور سے دور رکھیں تاکہ یہ چھٹیاں کسی حادثے کا سبب نہ بنیں۔
لاہور اس وقت عقیدت، حب الوطنی اور تفریح کے رنگوں میں رنگا ہوا ہے۔ ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ کے مطابق، طویل تعطیلات کا فائدہ اٹھانے کے لیے لوگوں نے اندرونِ ملک سفر کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔basant holidays in lahore کا یہ موقع جہاں سکون کا باعث ہے، وہیں انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔ دی نیشن (The Nation) کا خلاصہ ہے کہ پولیس کی مستعدی ہی ان چھٹیوں کو پرامن بنا سکتی ہے۔ ڈیلی ٹائمز (Daily Times) کے مطابق، لاہور کے شہری 9 فروری کو دوبارہ اپنے کاموں پر واپس لوٹیں گے، تب تک پورا شہر جشن اور عقیدت کے ماحول میں رہے گا۔

