امریکی انتظامیہ نے امیگریشن پالیسیوں میں ایک بڑی اور حیران کن تبدیلی کرتے ہوئے درجنوں ممالک کے لیے ویزا سروسز معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈان نیوز (Dawn News)، دی گارڈین (The Guardian) اور بلومبرگ (Bloomberg) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی انتظامیہ نے تارکینِ وطن (Immigrants) کے ویزوں کے اجراء کو فوری طور پر روک دیا ہے۔ اس فیصلے نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اس کے اثرات براہِ راست ان ہزاروں خاندانوں، طلباء اور ہنرمند افراد پر پڑیں گے جو امریکہ منتقل ہونے کے منتظر تھے۔
دی گارڈین (The Guardian) کی رپورٹ کے مطابق، نئے صدارتی حکم نامے کے تحت تارکینِ وطن کے ویزوں (Immigrant Visas) کی پروسیسنگ کو نامعلوم مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ اقدام ملکی سلامتی اور مقامی لیبر مارکیٹ کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ بلومبرگ (Bloomberg) نے فوکس نیوز (Fox News) کے حوالے سے بتایا ہے کہ ویزا پروسیسنگ کو منجمد کرنے کا فیصلہ درجنوں ممالک کے لیے کیا گیا ہے، جس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی اہم ممالک شامل ہیں۔ اس اچانک فیصلے نے امریکی سفارت خانوں میں جاری انٹرویوز اور درخواستوں کے عمل کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔
ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ کے مطابق، اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ان افراد پر پڑے گا جو فیملی بیسڈ ویزا (Family-based visas) یا ملازمت کے سلسلے میں امریکہ جانے کے خواہش مند تھے۔ پاکستانی شہریوں کے لیے بھی یہ خبر تشویش کا باعث ہے کیونکہ ویزا سروسز کی معطلی سے پہلے سے جاری کیسز میں غیر معینہ تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ سخت گیر پالیسی ان کے "سب سے پہلے امریکہ" (America First) کے ایجنڈے کا تسلسل ہے، جس کا مقصد قانونی امیگریشن کے عمل کو بھی محدود کرنا ہے۔
بلومبرگ (Bloomberg) کے مطابق، انسانی حقوق کی تنظیموں اور کاروباری گروپوں نے اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویزا سروسز کی بندش سے امریکہ میں ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبوں میں ہنرمند افراد کی کمی پیدا ہو جائے گی۔ دی گارڈین (The Guardian) نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس معطلی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، کیونکہ بہت سے درخواست گزار پہلے ہی ہزاروں ڈالر فیسوں کی مد میں ادا کر چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ امیگریشن کے پورے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اسے مزید شفاف اور محفوظ بنایا جا سکے۔
امریکہ کی نئی امیگریشن پالیسی نے ایک عالمی بحران کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ڈان نیوز (Dawn News) کے مطابق، بین الاقوامی برادری اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کئی ممالک نے سفارتی ذرائع سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ بلومبرگ (Bloomberg) کی رپورٹ کے مطابق، ویزا پروسیسنگ منجمد ہونے سے امریکی سیاحت اور تعلیم کے شعبے کو بھی کروڑوں ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ معطلی عارضی ہے یا ٹرمپ انتظامیہ مستقل طور پر امیگریشن کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

