Sex Manifesto Scandal at Lund University: Toxic Document Sparks Outrage in Sweden

Sex Manifesto Scandal at Lund University: Toxic Document Sparks Outrage in Sweden

سویڈن کی قدیم اور نامور تعلیمی درسگاہ، لنڈ یونیورسٹی (Lund University) اس وقت ایک شدید تنازع کی زد میں ہے جہاں طلباء کے درمیان ایک نام نہاد "سیکس مینی فیسٹو" (Sex Manifesto) کی گردش نے انتظامیہ اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سویڈش اخبارات شوینسکا ڈاگ بلیڈٹ (SvD)، لنڈا گارڈ (Lundagård) اور ایکسپریسن (Expressen) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، یہ دستاویز مرد طلباء کے لیے لکھی گئی ہے جس میں خواتین کے حوالے سے انتہائی توہین آمیز اور غیر اخلاقی ہدایات درج ہیں۔ اس مینی فیسٹو کے سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی کی فضا مکدر ہو گئی ہے اور صنفی برابری کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

A controversial "Sex Manifesto" targeting women is spreading among students at Lund University. Explore reports from SvD, Expressen, and Lundagård on the backlash and university's response.

لنڈا گارڈ (Lundagård) کی رپورٹ کے مطابق، اس وائرل دستاویز میں "ابتدائی دماغ" (Primitive Brains)، "ہر ملاپ کی قیمت" (Price per lay) اور جنسی تعلق کے لیے اصرار کرنے جیسے متنازع تصورات پیش کیے گئے ہیں۔ مینی فیسٹو میں مردوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ خواتین کو محض ایک مادی شے کے طور پر دیکھیں اور ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کریں۔ ایکسپریسن (Expressen) کے مطابق، یہ مواد بنیادی طور پر یونیورسٹی کے مختلف گروپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مردانہ برتری کے زہریلے خیالات کو فروغ دینا ہے۔


شوینسکا ڈاگ بلیڈٹ (SvD) کی رپورٹ کے مطابق، لنڈ یونیورسٹی (Lund University) کی انتظامیہ نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔ یونیورسٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دستاویزات تعلیمی ماحول کے لیے زہرِ قاتل ہیں اور یہ یونیورسٹی کی بنیادی اقدار، جیسے کہ احترام اور مساوات، کے صریحاً خلاف ہیں۔ ایکسپریسن (Expressen) کے مطابق، طلباء کی تنظیموں نے بھی اس مینی فیسٹو کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس کے پیچھے ملوث افراد کی شناخت کر کے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسی غلیظ مہم جوئی کا راستہ روکا جا سکے۔


ماہرینِ نفسیات اور عمرانیات کا ماننا ہے کہ اس طرح کے "سیکس مینی فیسٹو" کا پھیلاؤ آن لائن سب کلچرز (Online Subcultures) جیسے کہ 'ان سیلز' (Incels) یا 'پک اپ آرٹسٹس' (PUAs) کے بڑھتے ہوئے اثرات کا نتیجہ ہے۔ لنڈا گارڈ (Lundagård) کے مطابق، یونیورسٹی میں خواتین طلباء نے عدم تحفظ کا اظہار کیا ہے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کیمپس پر خواتین کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جائے۔ شوینسکا ڈاگ بلیڈٹ (SvD) نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس واقعے نے سویڈن میں اظہارِ رائے کی آزادی اور نفرت انگیز مواد کے درمیان باریک لکیر پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔


لنڈ یونیورسٹی (Lund University) کا یہ سکینڈل سویڈش تعلیمی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ ایکسپریسن (Expressen) کی رپورٹ کے مطابق، انتظامیہ نے متاثرہ طلباء کے لیے کونسلنگ کی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی صنفی امتیاز اور غیر اخلاقی نظریات کی جڑیں گہری ہو سکتی ہیں، جن کے خلاف مسلسل جدوجہد اور آگاہی کی ضرورت ہے۔