Trump Orders Fannie Mae and Freddie Mac to Buy $200 Billion in Mortgage Bonds to Lower Rates

Trump Orders Fannie Mae and Freddie Mac to Buy $200 Billion in Mortgage Bonds to Lower Rates

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہاؤسنگ مارکیٹ میں استحکام لانے اور گھروں کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ میں لانے کے لیے ایک بڑے معاشی اقدام کا اعلان کیا ہے۔ CNBC، CNN اور وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی رپورٹوں کے مطابق، صدر ٹرمپ نے وفاقی اداروں فینی مے (Fannie Mae) اور فریڈی میک (Freddie Mac) کو حکم دیا ہے کہ وہ مارکیٹ سے 200 بلین ڈالر مالیت کے مارگیج بانڈز خریدیں۔

President Trump calls on federal agencies to inject $200 billion into the mortgage bond market. Discover how this bold move aims to slash mortgage rate

 اس اقدام کا بنیادی مقصد مارگیج ریٹس (Mortgage Rates) میں کمی لانا ہے، جو حالیہ مہینوں میں بلند ترین سطح پر پہنچنے کی وجہ سے امریکیوں کے لیے گھر خریدنا ناممکن بنا رہے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مارکیٹ میں اس بڑے پیمانے پر نقد رقم (Liquidity) فراہم کرنے سے بینکوں پر دباؤ کم ہوگا اور وہ کم شرح سود پر قرضے فراہم کر سکیں گے۔


 وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ مطالبہ وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے ذریعے کیا گیا ہے، جس کا مقصد براہ راست ان بانڈز کو نشانہ بنانا ہے جو گھروں کے قرضوں کی قیمت طے کرتے ہیں۔ صدر کا خیال ہے کہ مارگیج ریٹس کا 7 فیصد یا اس سے اوپر رہنا امریکی معیشت اور "امریکی خواب" (American Dream) کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ 200 بلین ڈالر کی یہ خریداری مارکیٹ میں طلب میں اضافہ کرے گی، جس کے نتیجے میں بانڈز کی قیمتیں بڑھیں گی اور ان پر ملنے والا منافع (Yields) کم ہوگا، جو کہ بالآخر عام شہریوں کے لیے مارگیج ریٹس کو نیچے لانے کا باعث بنے گا۔

 CNN کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے نے مالیاتی ماہرین کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں کچھ لوگ اسے ہاؤسنگ مارکیٹ کے لیے ایک "لائف لائن" قرار دے رہے ہیں، وہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ وفاقی اداروں کا اس طرح مارکیٹ میں مداخلت کرنا طویل مدتی مہنگائی (Inflation) کا باعث بن سکتا ہے۔


 ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ اس سے فوری طور پر شرح سود میں کمی آ سکتی ہے، لیکن یہ فینی مے اور فریڈی میک کے بیلنس شیٹ پر بوجھ بڑھا سکتا ہے، جو کہ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد سے پہلے ہی زیرِ بحث رہے ہیں۔ CNBC کے مطابق، اس وقت مارگیج ریٹس کی صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان کے فوری بعد مارکیٹ نے مثبت ردعمل دیا ہے اور شرح سود میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔


 تاہم، سرمایہ کار اب بھی اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) اس حکومتی مداخلت پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے، تو اس سے نہ صرف نئے گھروں کی فروخت میں اضافہ ہوگا بلکہ ری فنانسنگ (Refinancing) کروانے والے لاکھوں امریکیوں کو بھی ماہانہ اقساط میں بڑی بچت ہوگی۔

 صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ "بیوروکریٹک رکاوٹوں" کو ختم کر کے گھروں کی تعمیر اور خریداری کو آسان بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ اقدام ان کی اس وسیع تر معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ امریکیوں کی قوتِ خرید میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔

 وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ 200 بلین ڈالر کا یہ انجکشن صرف آغاز ہے، اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اس وقت امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ میں گھروں کی سپلائی کم ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ سستی مارگیج سے بلڈرز کو بھی نئے پروجیکٹس شروع کرنے کی ترغیب ملے گی۔


 تاہم، اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ نجی سرمایہ کار اس حکومتی مداخلت کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ اگر مارکیٹ کو لگا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے تو بانڈز کی فروخت بڑھ سکتی ہے جو ریٹس کو دوبارہ اوپر لے جا سکتی ہے۔

 دوسری جانب، ریپبلکن اراکینِ کانگریس نے اس فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے وہ کر دکھایا جو پچھلی انتظامیہ کرنے میں ناکام رہی تھی۔ 


 مختصر یہ کہ ٹرمپ کی جانب سے فینی مے اور فریڈی میک کو 200 بلین ڈالر کے بانڈز خریدنے کا حکم دینا امریکی ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے ایک بڑا جوا (Gamble) ہے۔ اگر یہ کامیاب رہا تو یہ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کی ایک بڑی جیت ہوگی اور لاکھوں خاندانوں کو اپنے گھر کا خواب پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ لیکن اگر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے تو یہ معیشت پر اضافی بوجھ بھی ڈال سکتا ہے۔ آنے والے ہفتے امریکی معیشت اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔