Trump's Greenland Purchase Offer 2026: Diplomatic Row with Denmark and Europe

Trump's Greenland Purchase Offer 2026: Diplomatic Row with Denmark and Europe

نیویارک ٹائمز (The New York Times) کی 10 جنوری 2026 کی رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ڈنمارک کی حکومت کو گرین لینڈ (Greenland) کی خریداری کے لیے ایک باقاعدہ اور نئی پیشکش کی ہے، جسے انہوں نے "صدی کی سب سے بڑی رئیل اسٹیٹ ڈیل" قرار دیا ہے۔ اس اعلان نے نہ صرف یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ پیدا کر دیا ہے بلکہ نیٹو (NATO) کے اتحاد کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

President Trump renews his bid to buy Greenland in January 2026, causing a massive diplomatic rift with Denmark and the EU. Explore the strategic and

تفصیلات کے مطابق، صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ گرین لینڈ اپنی جغرافیائی اہمیت اور معدنی وسائل کی وجہ سے امریکی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس جزیرے کے بدلے ڈنمارک کو ایک خطیر رقم کے ساتھ ساتھ طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، ڈنمارک کی وزیرِ اعظم نے اس پیشکش کو فوری طور پر "مضحکہ خیز" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، جبکہ گرین لینڈ کی مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ "گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے"۔

 یورپی ردِعمل اور تشویش: یورپی یونین کے رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو "نو آبادیاتی سوچ" کا تسلسل قرار دیا ہے۔ جرمنی اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے ڈنمارک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ تنازع صرف زمین کی خریداری تک محدود نہیں، بلکہ یہ آرکٹک (Arctic) خطے میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کی ایک امریکی کوشش ہے۔

 گرین لینڈ میں موجود قیمتی معدنیات (Rare Earth Minerals) سیمی کنڈکٹر اور بیٹری انڈسٹری کے لیے انتہائی اہم ہیں، جن پر امریکہ اپنا کنٹرول چاہتا ہے۔


 جغرافیائی اور فوجی اہمیت: گرین لینڈ میں پہلے ہی امریکہ کا "تھول ایئر بیس" (Thule Air Base) موجود ہے جو کہ امریکی میزائل دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ اگر گرین لینڈ مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں آ جاتا ہے، تو قطبِ شمالی کے دفاعی راستوں پر امریکہ کی گرفت مضبوط ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برف پگھلنے کے ساتھ ہی آرکٹک میں جہاز رانی کے نئے راستے کھل رہے ہیں، جس سے اس خطے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ 


 سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ اقدام 2026 کے وسطی انتخابات سے پہلے اپنی "امریکہ فرسٹ" (America First) پالیسی کو تقویت دینے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے۔ اگرچہ قانونی اور سفارتی طور پر کسی دوسرے ملک کا علاقہ خریدنا تقریباً ناممکن ہے، لیکن ٹرمپ کی اس ضد نے بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ یورپی ممالک اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا وہ امریکہ پر اپنے دفاعی انحصار کو کم کر سکتے ہیں۔ 


گرین لینڈ کا مسئلہ ایک بار پھر امریکہ اور یورپ کے درمیان ایک بڑی خلیج پیدا کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی غیر روایتی سفارت کاری نے ڈنمارک جیسے قریبی اتحادی کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا ٹرمپ اس مطالبے پر قائم رہتے ہیں یا یہ محض ایک سیاسی دباؤ ڈالنے کا حربہ ہے۔