تیلگو فلم انڈسٹری کے "پین انڈیا" سپر اسٹار پربھاس (Prabhas) کی نئی ہارر-کامیڈی فلم "دی راجہ صاحب" (The Raja Saab) نے ریلیز ہوتے ہی باکس آفس پر زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ آئی ایم ڈی بی (IMDb)، سیک نیلک (Sacnilk) اور ہندوستان ٹائمز (Hindustantimes) کی رپورٹوں کے مطابق، اس فلم نے محض پہلے دن کے مارننگ شوز کی کمائی سے ہی بالی وڈ کی میگا بجٹ فلم "دھورندھر" (Dhurandhar) کی باکس آفس پر طویل حکمرانی کا خاتمہ کر دیا ہے۔
رنویر سنگھ (Ranveer Singh) کی فلم "دھورندھر" جو گزشتہ کئی دنوں سے سینما گھروں پر قابض تھی، پربھاس کے "راجہ صاحب" کے سامنے بے بس نظر آئی۔ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ پربھاس کی عوامی مقبولیت اور ان کا "باکس آفس پل" (Box Office Pull) اس وقت ہندوستانی سینما میں سب سے زیادہ ہے۔
سیک نیلک (Sacnilk) کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، "دی راجہ صاحب" (The Raja Saab) نے پہلے دن کے لیے ریکارڈ توڑ ایڈوانس بکنگ کی تھی اور پہلے دن کا مجموعی بزنس کسی بھی بڑی بھارتی فلم کے لیے ایک نیا سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ فلم کو خاص طور پر جنوبی بھارت کے علاوہ شمالی ہند (North India) میں بھی غیر معمولی ردعمل ملا ہے۔ پربھاس کا ہارر اور کامیڈی کے امتزاج والا یہ نیا اوتار مداحوں کو بے حد پسند آ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم کی سنیماٹوگرافی اور پربھاس کی سکرین پریزنس نے اسے ایک "مسٹ واچ" (Must-watch) فلم بنا دیا ہے، جس کے سامنے رنویر سنگھ کی "دھورندھر" کا جادو اب ماند پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
ہندوستان ٹائمز (Hindustan Times) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رنویر سنگھ (Ranveer Singh) کی "دھورندھر" (Dhurandhar) نے ہفتوں تک باکس آفس پر راج کیا، لیکن "دی راجہ صاحب" (The Raja Saab) کی لہر اتنی طاقتور تھی کہ محض صبح کے شوز کی کلیکشن نے ہی پرانی فلموں کے ریکارڈز کو پاش پاش کر دیا۔ فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پربھاس کا "کلاسک کم بیک" ہے جہاں وہ ایک الگ ہی رنگ میں نظر آ رہے ہیں۔
فلم کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی شہروں میں رات گئے تک کے تمام شوز "ہاؤس فل" (Housefull) جا رہے ہیں اور ڈسٹری بیوٹرز نے ڈیمانڈ بڑھنے پر شوز کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ "دی راجہ صاحب" (The Raja Saab) کی ہدایت کاری ماروتی (Maruthi) نے کی ہے، جنہوں نے پربھاس کو ایک ایسے روپ میں پیش کیا ہے جو ان کے روایتی "ایکشن ہیرو" امیج سے مختلف ہے۔
فلم میں ہارر کے ساتھ ساتھ مزاح کا تڑکا بھی لگایا گیا ہے، جو ہر عمر کے شائقین کو متاثر کر رہا ہے۔ سیک نیلک (Sacnilk) کی رپورٹ کے مطابق، تیلگو ریاستوں (آندھرا پردیش اور تلنگانہ) میں فلم نے پہلے دن کی کمائی کے پرانے تمام ریکارڈز کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پربھاس کے مداح سڑکوں پر جشن منا رہے ہیں اور اسے سال کی سب سے بڑی بلاک بسٹر قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب، رنویر سنگھ (Ranveer Singh) کی فلم "دھورندھر" (Dhurandhar) کی کمائی میں اچانک گراوٹ آئی ہے، کیونکہ زیادہ تر سینما مالکان نے "دی راجہ صاحب" کے لیے اسکرینز مختص کر دی ہیں۔ اگرچہ "دھورندھر" نے اپنے وقت میں شاندار بزنس کیا، لیکن پربھاس کے جنون نے رنویر کی فلم کی دوڑ کو بریک لگا دیے ہیں۔ آئی ایم ڈی بی (IMDb) پر بھی فلم کی ریٹنگز اور ریویوز میں پربھاس کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں فلم کے بزنس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
پربھاس (Prabhas) کے لیے یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ان کی پچھلی چند فلموں کے بعد ناقدین ان کی فارم پر سوال اٹھا رہے تھے۔ لیکن "دی راجہ صاحب" (The Raja Saab) نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پربھاس اب بھی انڈین سنیما کے واحد "ڈارلنگ" ہیں جو کسی بھی وقت باکس آفس کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ فلم کے گانے اور ٹریلر پہلے ہی سوشل میڈیا پر ہٹ ہو چکے تھے، جس نے ریلیز کے دن کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم تیار کر دیا تھا۔ 2026 کا آغاز پربھاس کے لیے انتہائی مبارک ثابت ہوا ہے، جہاں انہوں نے ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔
مختصر یہ کہ "دی راجہ صاحب" (The Raja Saab) نے رنویر سنگھ کی "دھورندھر" کی حکمرانی کو ختم کر کے باکس آفس پر اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔ پربھاس کی یہ فلم نہ صرف کمرشل لحاظ سے کامیاب ہو رہی ہے بلکہ اسے تنقیدی طور پر بھی پذیرائی مل رہی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ فلم ہندوستانی سنیما کی تاریخ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں کی فہرست میں شامل ہو جائے گی۔ شائقین اب اس بات کے منتظر ہیں کہ فلم پہلے ہفتے کے اختتام پر کتنے سو کروڑ کا ہندسہ عبور کرتی ہے۔

