منیسوٹا کے سابق گورنر اور معروف شخصیت جیسی وینٹورا (Jesse Ventura) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں اور ریاست میں "آئی سی ای" (ICE) کی حالیہ کارروائیوں کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ دی ہل (The Hill)، فوکس 9 (Fox 9) اور اسٹار ٹریبیون (Star Tribune) کی رپورٹوں کے مطابق، وینٹورا نے منیاپولس کے ایک ہائی اسکول کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امیگریشن حکام اور طلبہ کے درمیان ہونے والے ایک مبینہ تصادم پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
سابق گورنر نے نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر ملک بدری (Mass Deportations) کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ ان پالیسیوں کے خلاف دوبارہ سیاسی میدان میں اتر سکتے ہیں۔ جیسی وینٹورا (Jesse Ventura) نے اسکول کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں امیگریشن حکام کی موجودگی خوف و ہراس پھیلانے کے مترادف ہے اور یہ امریکی اقدار کے منافی ہے۔
فوکس 9 (Fox 9) کی رپورٹ کے مطابق، جنوری 2026 میں پیش آنے والے اس واقعے نے مقامی کمیونٹی میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے، جہاں طلبہ اور اساتذہ نے "آئی سی ای" (ICE) کی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وینٹورا نے زور دے کر کہا کہ اسکولوں کو "محفوظ پناہ گاہ" (Safe Havens) ہونا چاہیے نہ کہ سیاسی مقاصد کے لیے چھاپوں کی جگہ۔
اسٹار ٹریبیون (Star Tribune) کے مطابق، جیسی وینٹورا نے صدر ٹرمپ (Donald Trump) کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ان کی پالیسیوں کو "ظالمانہ" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ایجنٹوں کا استعمال کر کے خاندانوں کو الگ کرنا ملک کے جمہوری ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس احتجاجی دورے کے دوران وینٹورا نے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی اہم گفتگو کی اور کہا کہ اگر حالات اسی طرح جاری رہے تو وہ ایک بار پھر گورنر یا کسی اعلیٰ عہدے کے لیے انتخاب لڑنے پر سنجیدگی سے غور کریں گے تاکہ ان پالیسیوں کا راستہ روکا جا سکے۔
دی ہل (The Hill) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وینٹورا کی یہ تنقید ٹرمپ انتظامیہ کے اس وسیع تر منصوبے کا ردعمل ہے جس کے تحت لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ جیسی وینٹورا، جو کہ اپنی بے باک گفتگو اور آزادانہ سیاسی نظریات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، اب منیسوٹا میں ٹرمپ مخالف لہر کے ایک بڑے چہرے کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ریاست کی خودمختاری اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔ منیاپولس کے اس ہائی اسکول میں ہونے والے واقعے نے وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مقامی انتظامیہ نے بھی وفاقی حکام کے اس طرزِ عمل پر احتجاج کیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ صرف قانون کی پاسداری کر رہے ہیں۔ وینٹورا نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "قانون کا احترام انسانیت کے احترام سے الگ نہیں ہو سکتا"۔ ان کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے، جہاں لوگ ان کی بہادری کو سراہ رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جیسی وینٹورا (Jesse Ventura) کی واپسی منیسوٹا کی سیاست میں ایک نیا رخ پیدا کر سکتی ہے۔ 2026 کے وسطی انتخابات (Midterm Elections) کے قریب آتے ہی ان کا یہ متحرک ہونا ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو سکتا ہے۔ وینٹورا نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی مخصوص پارٹی کے لیے نہیں بلکہ "انصاف اور انسانیت" کے لیے کھڑے ہیں۔ اسکول میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انہیں حوصلہ دیا اور کہا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں۔
مختصر یہ کہ جیسی وینٹورا نے "آئی سی ای" (ICE) کے خلاف احتجاج کر کے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کو ایک بڑا چیلنج دے دیا ہے۔ ان کے اس اقدام نے نہ صرف منیسوٹا بلکہ پورے امریکہ میں امیگریشن اور انسانی حقوق پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا وینٹورا دوبارہ انتخاب لڑیں گے؟ اس سوال کا جواب اب ریاست کے سیاسی افق پر نمایاں ہونا شروع ہو گیا ہے، اور ان کی حالیہ سرگرمیاں اسی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔

