Justice Alito's Recusal: Supreme Court to Decide Landmark Chevron Environmental Case

Justice Alito's Recusal: Supreme Court to Decide Landmark Chevron Environmental Case

امریکی سپریم کورٹ (Supreme Court) کے سینئر جج جسٹس سیموئل الیٹو (Justice Samuel Alito) نے شیورون (Chevron) اور لوزیانا (Louisiana) کے درمیان جاری ایک انتہائی اہم ماحولیاتی کیس کی سماعت سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پیر کے روز اس کیس پر باقاعدہ بحث کا آغاز ہونا تھا۔ جسٹس الیٹو کی جانب سے اس کیس سے علیحدگی (Recusal) کی بنیادی وجہ مالی مفادات کا ٹکراؤ بتائی گئی ہے، جو کہ عدالتی اخلاقیات اور شفافیت کے حوالے سے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

With Justice Samuel Alito stepping aside, the Supreme Court is set to hear the pivotal Chevron v. Plaquemines Parish case with only eight judges. Uncover the massive implications this could have for environmental law and corporate power in the United States.

جسٹس سیموئل الیٹو (Samuel Alito) نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب یہ انکشاف ہوا کہ وہ کونوکو فلپس (ConocoPhillips) نامی کمپنی میں مالی حصص رکھتے ہیں۔ کونوکو فلپس دراصل برلنگٹن ریسورسز (Burlington Resources) کی بنیادی کمپنی ہے، جو کہ اس زیرِ سماعت مقدمے میں ایک فریق کے طور پر شامل ہے۔ اگرچہ برلنگٹن ریسورسز (Burlington Resources) نے ابتدائی طور پر عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ اس قانونی چارہ جوئی سے پیچھے ہٹ چکی ہے، لیکن حالیہ عدالتی دستاویزات سے ثابت ہوا کہ وہ تاحال نچلی عدالت میں اس کیس کا حصہ ہے۔ سپریم کورٹ کے کلرک اسکاٹ ہیرس (Scott Harris) کے خط کے مطابق، ان نئے حقائق کے سامنے آنے کے بعد جسٹس الیٹو نے خود کو کیس سے الگ کرنا ضروری سمجھا۔

اس مقدمے کی اہمیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ اس کا تعلق ماحولیاتی تبدیلیوں اور ساحلی کٹاؤ سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے سے ہے۔ لوزیانا (Louisiana) کے مختلف اضلاع نے شیورون (Chevron) اور دیگر بڑی تیل کمپنیوں کے خلاف دعویٰ کر رکھا ہے کہ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے ریاست کے ساحلی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کیس کا مرکزی قانونی نکتہ یہ ہے کہ آیا اس طرح کے مقدمات کی سماعت ریاستی عدالتوں (State Courts) میں ہونی چاہیے یا وفاقی عدالتوں (Federal Courts) میں۔ عام طور پر تیل اور گیس کی کمپنیاں وفاقی عدالتوں کو ترجیح دیتی ہیں جہاں انہیں قانونی پیچیدگیوں کا فائدہ ملنے کی امید ہوتی ہے، جبکہ مدعی ریاستی عدالتوں کو اپنے لیے زیادہ سازگار سمجھتے ہیں۔

جسٹس الیٹو (Alito) کی دستبرداری کے بعد اب سپریم کورٹ کے صرف آٹھ جج اس کیس کا فیصلہ کریں گے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹھ رکنی بینچ کی صورت میں اگر ججوں کے درمیان فیصلہ برابر (4-4 Tie) ہو جاتا ہے، تو ایسی صورت میں نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رہے گا، لیکن اس سے کوئی ملک گیر نظیر (Nationwide Precedent) قائم نہیں ہو سکے گی۔ یہ صورتحال نہ صرف شیورون (Chevron) بلکہ پوری انرجی انڈسٹری (Energy Industry) کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ لوزیانا (Louisiana) کی ایک جیوری پہلے ہی شیورون کو 740 ملین ڈالر سے زائد کے ہرجانے کا حکم دے چکی ہے، جس کے خلاف کمپنی نے اپیل کر رکھی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی سپریم کورٹ کے ججوں کے مالی مفادات یا اخلاقی ضوابط پر بحث چھڑی ہو۔ ماضی قریب میں بھی جسٹس الیٹو (Justice Alito) اور جسٹس تھامس (Justice Thomas) کو مختلف دوروں اور تحائف کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم، اس بار الیٹو کی جانب سے خود کو کیس سے الگ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سپریم کورٹ اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے مالی مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے معاملے پر سنجیدگی اختیار کر رہی ہے۔ اس کیس کے فیصلے کا انتظار نہ صرف لوزیانا (Louisiana) کی حکومت کو ہے بلکہ دنیا بھر کی بڑی ماحولیاتی تنظیمیں بھی اس پر نظریں جمائے ہوئے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مستقبل میں بڑی کمپنیوں کو ماحولیاتی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے کون سا عدالتی فورم استعمال ہوگا۔

جسٹس سیموئل الیٹو (Samuel Alito) کی دستبرداری نے شیورون بمقابلہ پلیکویمینز پیرش (Chevron U.S.A. Inc. v. Plaquemines Parish) کیس کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ پیر 12 جنوری کو ہونے والی سماعت اب آٹھ ججوں کے سامنے ہوگی، اور اس کا نتیجہ امریکی نظامِ عدل اور ماحولیاتی قوانین کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا سپریم کورٹ کمپنیوں کو وفاقی عدالتوں میں پناہ لینے کی اجازت دے گی یا ریاستوں کو یہ حق ملے گا کہ وہ اپنے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا حساب مقامی عدالتوں میں طلب کریں، اس کا فیصلہ آنے والے مہینوں میں متوقع ہے۔