ایران (Iran) میں بے مثال معاشی بحران اور ملک گیر احتجاج: قومی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، ہلاکتیں اور انسانی بحران
ایران (Iran) میں بڑھتی مہنگائی، کرنسی بحران اور اقتصادی عدم استحکام کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری ہے، جب کہ حکومت نے مواصلات پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے انٹرنیٹ سروس تقریباً مکمل بند کردی ہے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
ایران (Iran) میں اقتصادی مشکلات، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی افراطِ زر کے خلاف احتجاج بدستور زور پکڑے ہوئے ہیں، جس نے ملک کی پوری سر زمین پر سیاسی اور سماجی تناؤ کو جنم دیا ہے۔ واقعات کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق یہ احتجاج صرف ایک شہر یا علاقے تک محدود نہیں رہے بلکہ تہران (Tehran)، مشہد (Mashhad)، اصفہان (Isfahan) اور دیگر بڑے شہروں اور دیہی علاقوں میں پھیل چکے ہیں، جس نے اسلامی جمہوریہ ایران (Islamic Republic of Iran) کی حکومت کو سخت دفاعی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
ابتدائی احتجاج 2025 کے آخر میں ایران کے دارالحکومت تہران (Tehran) کی معروف گرینڈ بازار (Grand Bazaar) پر شروع ہوئے، جہاں تاجروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں، کمزور کرنسی اور کاروباری نقصان کے خلاف دکانیں بند کر دیں۔ اس دھرنے نے جلد ہی دوسرے طبقات بشمول طلبہ، مزدوروں اور نوجوانوں کو بھی شامل کر لیا، جس کے نتیجے میں احتجاج کی لہر قومی سطح پر پھیل گئی۔
ایران (Iran) کی مرکزی بینک (Central Bank) نے ماضی میں کچھ رعایتی شرح تبادلہ فراہم کیں تھیں، لیکن جب حکومت نے بین الاقوامی پابندیوں اور مالی دباؤ کے باعث ان مراعات کو ختم کیا، تو ریال (Rial) کی قدر ایک نمایاں سطح تک گر گئی، جس نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کیا۔
احتجاج کے آغاز کے بعد حکومت نے اقتصادی کمیٹیوں کے اجلاس کیے اور آہستہ آہستہ کچھ اقدامات کا اعلان کیا، جیسے کہ محدود مالی امداد، لیکن یہ اقدامات عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، کیونکہ سعودی ریال (Rial) کے مقابلے میں نقصان جاری رہا۔
بڑھتی ہوئی آگہی اور احتجاجی لہر نے جلد ہی اجتماعی عملی شکل اختیار کر لی، جہاں کاروباری مراکز، ریستوران، اور اہم شاپنگ ڈسٹرکٹ بند نظر آئے، جس سے معیشت مزید زبوں حالت میں جا پہنچی۔
ایران (Iran) میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بڑھتی گئیں، خاص طور پر تہران (Tehran) کے مشہور بازار اور عوامی مقامات پر، جہاں ٹئیر گیس، لاٹھی چارجز اور پولیس کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمی افراد سامنے آئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کم از کم درجنوں افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
سب سے زیادہ متنازع اقدام حکومت کی جانب سے ملک گیر انٹرنیٹ سروس بلیک آؤٹ (Internet Blackout) تھا۔ ایران (Iran) میں سوشل میڈیا اور آن لائن مواصلات تقریباً معطل ہو گئیں، جس سے نہ صرف عوام کی معلومات تک رسائی متاثر ہوئی بلکہ خبریں بھی اسکرین ہو گئیں کہ احتجاج کی حقیقی صورتحال دنیا تک پہنچ سکے۔ نیٹ بلاکس (NetBlocks)، جو ایک آن لائن نگرانی گروپ ہے، نے بتایا کہ کنیکشن تقریباً مکمل طور پر منقطع ہو گئی ہے، جس نے شہریوں کی آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کو سنگین چیلنج دیا۔
یہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ایسے وقت میں نافذ کی گئی جب احتجاج ملک کے ہر صوبے تک پھیل چکا تھا، جس سے اطلاعات اور رہائی حقوق پر مزید سخت پابندیاں عائد ہو گئیں۔
عالمی برادری نے بھی ایران (Iran) میں احتجاج کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، انسانی حقوق گروپوں اور بعض ممالک نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امن اور انسانیت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مظاہرین کے مطالبات پر مذاکرات کرے۔
ایران (Iran) میں جاری احتجاج اور معاشی بحران ملکی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی غمزے کی نمائندگی کرتا ہے، جو اقتصادی بدحالی، بڑھتی قیمتوں اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے جنگ کا عنوان بن چکا ہے۔ مستقبل میں صورتحال کس رخ پر جائے گی، وہ اس بات پر منحصر ہے کہ حکومت کس طرح عوام کے مطالبات کو سنے گی اور بین الاقوامی دباؤ کو کس حد تک برداشت کرے گی۔

