ویٹیکن سٹی (Vatican City) میں ہونے والی حالیہ کنسسٹری (Consistory) نے کیتھولک چرچ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔ پیلر کیتھولک (The Pillar)، او ایس وی نیوز (OSV News) اور این سی آر آن لائن (NCR Online) کی رپورٹوں کے مطابق، نو منتخب پوپ لیو (Pope Leo) نے کارڈینلز کے اس اہم اجلاس میں چرچ کے مستقبل کے لیے ایک واضح اور مشاورتی وژن پیش کیا ہے۔
اس کنسسٹری کو نہ صرف سابقہ پوپ فرانسس (Pope Francis) کی میراث کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، بلکہ یہ پوپ لیو کے اپنے منفرد انتظامی انداز کی عکاسی بھی کرتی ہے، جس میں وہ ایک ایسے چرچ پر زور دے رہے ہیں جو "ہمدرد" (Caring) اور "اشتراکِ عمل" (Collaborative) پر یقین رکھتا ہو۔
این سی آر آن لائن (NCR Online) کی رپورٹ کے مطابق، پوپ لیو (Pope Leo) نے کارڈینلز کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ویٹیکن کے اہم فیصلوں میں اجتماعی دانش کو شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ چرچ کو ایک "ٹاپ ڈاؤن" (Top-down) ادارے کے بجائے ایک ایسی جگہ بنانا چاہتے ہیں جہاں دنیا بھر کے کارڈینلز اپنے اپنے خطوں کے مسائل اور حل کو براہ راست میز پر لا سکیں۔ اس قدم کو ویٹیکن کی بیوروکریسی میں شفافیت لانے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
او ایس وی نیوز (OSV News) نے بتایا کہ اس کنسسٹری سے نکلنے والے کارڈینلز ایک "واضح وژن" کے ساتھ واپس لوٹے ہیں۔ پوپ نے اپنے خطاب میں ایک ایسے چرچ کا نقشہ کھینچا جو صرف اصول و ضوابط تک محدود نہ ہو بلکہ انسانیت کے درد کو محسوس کرے۔ انہوں نے کارڈینلز کو ہدایت کی کہ وہ "چرواہوں کی طرح اپنے ریوڑ کی بو محسوس کریں" اور سماجی ناانصافیوں، غربت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر فعال کردار ادا کریں۔
چرچ کا یہ نیا رخ "خدمت" (Service) کے تصور کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ پیلر کیتھولک (The Pillar) کے تجزیے کے مطابق، پوپ لیو کی یہ پہلی بڑی کنسسٹری اس بات کا امتحان تھی کہ وہ پوپ فرانسس کی اصلاحات کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں فرانسس نے چرچ کے ڈھانچے کو تبدیل کیا، وہیں پوپ لیو ان تبدیلیوں کو مستحکم (Institutionalize) کر رہے ہیں۔ کارڈینلز کی نئی تعیناتیوں میں بھی اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ چرچ کی عالمی نمائندگی (Global Representation) کو برقرار رکھا جائے، جس سے یورپ سے باہر کے ممالک کا اثر و رسوخ مزید بڑھے گا۔
اس کنسسٹری کا ایک اہم پہلو ویٹیکن کے مالیاتی نظام اور انتظامی اصلاحات پر تبادلہ خیال کرنا بھی تھا۔ پوپ لیو نے کارڈینلز کو یاد دلایا کہ چرچ کی ساکھ اس کے اخلاق اور مالی شفافیت سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائیں گے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ پوپ لیو کا "کولابوریٹو کورس" (Collaborative Course) چرچ کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے، پوپ لیو نے کارڈینلز کو "امید کا سفیر" قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل دور میں چرچ کو نوجوانوں کے ساتھ جڑنے کے لیے جدید ذرائع استعمال کرنے ہوں گے لیکن اپنی روحانی جڑوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
اس کنسسٹری کے بعد کیتھولک دنیا میں ایک نیا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ پوپ لیو نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک روحانی پیشوا ہیں بلکہ ایک بصیرت افروز منتظم بھی ہیں جو چرچ کو 21 ویں صدی کے چیلنجز کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
پوپ لیو کی یہ کنسسٹری کیتھولک چرچ کے لیے ایک "روڈ میپ" کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسے چرچ کی طرف پیش قدمی ہے جو زیادہ جمہوری، ہمدرد اور عالمی مسائل سے باخبر ہے۔ کارڈینلز کا یہ اجلاس ثابت کرتا ہے کہ ویٹیکن میں قیادت کی تبدیلی کے باوجود، اصلاحات کا عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ اسے ایک نئی جلا (Fresh Impetus) ملی ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ پوپ لیو کے یہ انقلابی اقدامات چرچ کی عملی زندگی میں کتنی تبدیلی لاتے ہیں۔

