نیویارک سٹی کی طبی تاریخ میں ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے جہاں ہزاروں نرسیں سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ اے بی سی نیوز، نیویارک پوسٹ اور اے بی سی 7 کی رپورٹوں کے مطابق، یہ نیویارک کی تاریخ کی سب سے بڑی نرسنگ ہڑتال(nurses strike) قرار دی جا رہی ہے، جس نے شہر کے بڑے ہسپتالوں میں نظامِ صحت کو درہم برہم کر دیا ہے۔
ہڑتال کی وجوہات اور نرسوں کا موقف:
ABC News کی رپورٹ کے مطابق، ہزاروں یونین نرسیں تنخواہوں میں اضافے، عملے کی کمی (Staffing Shortages) اور کام کے مشکل حالات کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ نرسوں کا کہنا ہے کہ عملے کی کمی کی وجہ سے مریضوں کی دیکھ بھال کا معیار متاثر ہو رہا ہے اور ان پر کام کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ وہ ہسپتالوں کی انتظامیہ سے بہتر معاوضے اور مریضوں کے لیے نرسوں کی تعداد کے حوالے سے سخت قوانین کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ہسپتال انتظامیہ کے سنگین الزامات: دوسری طرف، NY Post کی رپورٹ میں ایک حیران کن موڑ سامنے آیا ہے۔ شہر کے ایک بڑے ہسپتال کی انتظامیہ نے نرسوں کی یونین پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یونین ایسے ملازمین کو تحفظ فراہم کر رہی ہے جو "نشے کی حالت" (Drunk or Stoned) میں ڈیوٹی پر پائے گئے تھے۔ ہسپتال کے مطابق، یہ ہڑتال صرف مراعات کے لیے نہیں بلکہ ڈسپلنری ایکشن سے بچنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔ یونین نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے نرسوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
مریضوں پر اثرات اور ہنگامی اقدامات: نیوز ذرائع کے مطابق، اس ہڑتال کے باعث نیویارک کے بڑے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے:
سرجریز کی منسوخی: سینکڑوں غیر ضروری آپریشنز (Elective Surgeries) ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
عارضی عملہ: ہسپتالوں نے بھاری معاوضوں پر عارضی نرسیں (Travel Nurses) بلائی ہیں تاکہ آئی سی یو اور ایمرجنسی وارڈز کو چلایا جا سکے۔
مریضوں کی منتقلی: کچھ مریضوں کو دوسرے شہروں یا نجی مراکز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
مستقبل کی صورتحال: ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ہڑتال طویل ہوتی ہے تو نیویارک کا نظامِ صحت مکمل طور پر بیٹھ سکتا ہے۔ اس وقت دونوں فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ جہاں نرسیں اسے اپنے حقوق کی جنگ قرار دے رہی ہیں، وہیں انتظامیہ اسے غیر قانونی اور مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف سمجھ رہی ہے۔
نیویارک سٹی اس وقت ایک ایسے طبی اور قانونی معرکے کا مرکز بنا ہوا ہے جس کے نتائج نہ صرف نرسوں کے مستقبل بلکہ ہسپتالوں کے حفاظتی پروٹوکولز پر بھی گہرا اثر ڈالیں گے۔

