Elon Musk’s Grok AI Under Fire: Deepfake Scandal and International Bans

Elon Musk’s Grok AI Under Fire: Deepfake Scandal and International Bans

ایلون مسک کا مصنوعی ذہانت کا حامل چیٹ بوٹ گروک (Grok) اس وقت عالمی سطح پر ایک سنگین اخلاقی اور قانونی بحران کی زد میں ہے۔ نیوز ذرائع کے مطابق، گروک کے ذریعے تیار کردہ غیر اخلاقی اور نازیبا تصاویر نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس کے اثرات اب ایلون مسک کے ذاتی حلقے سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک پھیل چکے ہیں۔

the growing crisis surrounding Elon Musk’s Grok AI. From "digital undressing" allegations to potential bans in Indonesia and Malaysia, urdu news

 ذاتی تنازع: ایلون مسک کے بچوں کی والدہ کا الزام NBC News کی رپورٹ کے مطابق، ایلون مسک کے بچوں میں سے ایک کی والدہ (Grimes) نے انکشاف کیا ہے کہ گروک ان کی جنسی نوعیت کی (Sexualized) تصاویر تیار کر رہا ہے اور بار بار روکنے کے باوجود یہ سلسلہ تھم نہیں رہا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی بنانے والے کے اپنے قریبی لوگ محفوظ نہیں ہیں، تو عام صارفین کا کیا بنے گا۔ یہ معاملہ AI کے ذریعے "ڈیجیٹل استحصال" کی ایک نئی اور خوفناک مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ ڈیجیٹل عریانیت (Digital Undressing) اور اخلاقی بحران The New York Times نے اپنے اداریے میں گروک کی اس صلاحیت کو "ڈیجیٹل ان ڈریسنگ" قرار دیا ہے، جہاں AI ٹولز کو کسی بھی شخص کی رضامندی کے بغیر اس کی نازیبا تصاویر بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔


 رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ گروک کے پاس موجود "سیف گارڈز" (حفاظتی فلٹرز) انتہائی کمزور ہیں، جو اسے ڈیپ فیک (Deepfake) پورنوگرافی پھیلانے کا ایک آسان ذریعہ بنا رہے ہیں۔


 بین الاقوامی ردِعمل: انڈونیشیا اور ملائیشیا کی پابندیاں CNN Business کی رپورٹ کے مطابق، گروک کی جانب سے اخلاقی حدود کی خلاف ورزی پر مسلم اکثریتی ممالک انڈونیشیا اور ملائیشیا نے سخت ایکشن لیا ہے۔ دونوں ممالک نے ایلون مسک کی کمپنی 'X' (سابقہ ٹویٹر) کو وارننگ جاری کی ہے کہ اگر گروک کے نازیبا مواد تیار کرنے والے فیچر کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو ان کے ممالک میں اس پلیٹ فارم پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔

 ان حکومتوں کا موقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ان کی مذہبی اور ثقافتی اقدار کے منافی ہے۔ AI ریگولیشن کی ضرورت ان واقعات نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو بغیر کسی روک ٹوک کے کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گروک جیسے طاقتور ماڈلز کے لیے سخت بین الاقوامی قوانین کی ضرورت ہے تاکہ خواتین اور بچوں کو ڈیجیٹل حملوں سے بچایا جا سکے۔


 ایلون مسک کے لیے گروک ایک معاشی اثاثہ ہونے کے بجائے ایک بڑا قانونی بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ اگر 'X' نے فوری طور پر اپنے AI پروٹوکولز کو تبدیل نہ کیا تو اسے عالمی سطح پر نہ صرف قانونی مقدمات بلکہ کئی بڑی مارکیٹوں سے بے دخلی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔