سائنسدانوں نے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری (Jupiter) کے مشہور زمانہ "عظیم سرخ دھبے" (Great Red Spot) کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔ ناسا (NASA) کے جونو (Juno) مشن اور ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے حالیہ ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ یہ صدیوں پرانا عظیم طوفان نہ صرف سکڑ رہا ہے بلکہ اس کی شکل اور گہرائی میں بھی غیر معمولی تبدیلیاں آرہی ہیں۔
یہ دریافت مشتری کے ماحول اور وہاں چلنے والی طاقتور ہواؤں کے بارے میں ہمارے سابقہ نظریات کو چیلنج کر رہی ہے۔ مشتری کا یہ "سرخ دھبہ" دراصل ایک اینٹی سائکلونک طوفان ہے جو زمین سے بھی بڑا ہے۔ دہائیوں پہلے اس کا قطر زمین سے تین گنا زیادہ تھا، لیکن اب یہ سکڑ کر تقریباً ایک زمین کے برابر رہ گیا ہے۔
سائنسدانوں نے نوٹ کیا ہے کہ جیسے جیسے یہ طوفان چھوٹا ہو رہا ہے، یہ اونچائی میں بڑھ رہا ہے اور اس کی رنگت مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے مٹی گوندھتے وقت اگر اسے کناروں سے دبایا جائے تو وہ اوپر کی طرف ابھرنے لگتی ہے۔
جونو مشن (Juno Mission) کے مائیکرو ویو ریڈیومیٹر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا نے یہ بھی دکھایا ہے کہ یہ طوفان مشتری کے بادلوں کے اندر تقریباً 300 سے 500 کلومیٹر گہرائی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ گہرائی زمین کے سمندروں سے کہیں زیادہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشتری کے اندرونی حصے سے آنے والی حرارت اس طوفان کو ایندھن فراہم کر رہی ہے۔
محققین اب اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ کیا یہ طوفان آنے والے چند عشروں میں مکمل طور پر غائب ہو جائے گا یا یہ کسی نئی شکل میں برقرار رہے گا۔ ماہرینِ فلکیات کے لیے یہ ایک بڑا معمہ ہے کہ یہ طوفان اتنے طویل عرصے تک (کم از کم 350 سال سے) کیسے قائم رہا۔ زمین پر طوفان خشکی سے ٹکرانے کے بعد اپنی طاقت کھو دیتے ہیں، لیکن مشتری پر کوئی ٹھوس سطح نہ ہونے کی وجہ سے یہ طوفان مسلسل گردش کر رہا ہے۔ حالیہ تبدیلیوں سے پتا چلتا ہے کہ مشتری کا کرہ ہوائی (Atmosphere) پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بدل رہا ہے، جس سے سیارے کے دیگر چھوٹے طوفانوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
مشتری کا "عظیم سرخ دھبہ" اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے یا شاید ایک نئی ارتقائی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ رپورٹ کائنات کے انوکھے مظاہر اور سیاروں کے بدلتے ہوئے مزاج کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اگر یہ طوفان غائب ہو گیا، تو مشتری کی وہ روایتی شناخت ختم ہو جائے گی جو صدیوں سے ماہرینِ فلکیات کے لیے کشش کا باعث رہی ہے۔

