بھارت کی معروف آئی ٹی کمپنی انفوسس (Infosys) نے اپنے پائیداری کے اہداف (Sustainability Goals) کو حاصل کرنے کے لیے ایک انوکھا قدم اٹھایا ہے جس نے ملازمین اور ماہرین میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا، اکنامک ٹائمز اور دی نیو انڈین ایکسپریس کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق، انفوسس پائیداری کی رپورٹنگ کے لیے ملازمین کے گھر کی بجلی کے استعمال کا سروے کر رہی ہے (Infosys is surveying employee home electricity use for sustainability reporting)۔ کمپنی نے ورک فرام ہوم (WFH) کرنے والے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ اپنے بجلی کے بلوں کا ڈیٹا شیئر کریں تاکہ کمپنی اپنے مجموعی کاربن فوٹ پرنٹ کا درست اندازہ لگا سکے۔
ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کی رپورٹ کے مطابق، انفوسس نے اپنے ملازمین کو ای میلز بھیجی ہیں جن میں ان سے پچھلے چند مہینوں کے بجلی کے استعمال کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ اکنامک ٹائمز (Economic Times) کے مطابق، اس اقدام کا مقصد کمپنی کے "اسکوپ 3" (Scope 3) اخراجات کا حساب لگانا ہے، جو ان سرگرمیوں سے پیدا ہوتے ہیں جو کمپنی کے براہ راست کنٹرول میں نہیں ہیں لیکن اس کے آپریشنز کا حصہ ہیں۔ انفوسس پائیداری کی رپورٹنگ کے لیے ملازمین کے گھر کی بجلی کے استعمال کا سروے کر رہی ہے (Infosys is surveying employee home electricity use for sustainability reporting) تاکہ وہ اپنے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے عالمی وعدوں کو پورا کر سکے۔
دی نیو انڈین ایکسپریس (New Indian Express) کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی کا موقف ہے کہ جب ملازم دفتر کے بجائے گھر سے کام کرتا ہے، تو وہاں استعمال ہونے والی توانائی بھی تکنیکی طور پر کمپنی کے کام کے لیے ہی استعمال ہو رہی ہوتی ہے۔ اس لیے، نیٹ زیرو (Net Zero) اہداف حاصل کرنے کے لیے اس ڈیٹا کا ہونا ضروری ہے۔ تاہم، بہت سے ملازمین نے اسے اپنی رازداری (Privacy) میں مداخلت قرار دیا ہے۔ انفوسس پائیداری کی رپورٹنگ کے لیے ملازمین کے گھر کی بجلی کے استعمال کا سروے کر رہی ہے (Infosys is surveying employee home electricity use for sustainability reporting)، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب کارپوریٹ سیکٹر میں ماحولیاتی رپورٹنگ کے معیارات کس قدر سخت ہوتے جا رہے ہیں۔
اکنامک ٹائمز (Economic Times) کے مطابق، انفوسس دنیا کی ان چند کمپنیوں میں سے ایک ہے جو کاربن نیوٹرل (Carbon Neutral) ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی اس ڈیٹا کو صرف رپورٹنگ کے مقاصد کے لیے استعمال کرے گی اور اسے کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر نہیں کیا جائے گا۔ انفوسس پائیداری کی رپورٹنگ کے لیے ملازمین کے گھر کی بجلی کے استعمال کا سروے کر رہی ہے (Infosys is surveying employee home electricity use for sustainability reporting)، اور ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں دیگر بڑی آئی ٹی کمپنیاں بھی اسی نقشِ قدم پر چل سکتی ہیں تاکہ اپنے ماحول دوست ہونے کے دعووں کو دستاویزی ثبوتوں سے ثابت کر سکیں۔
انفوسس کا یہ فیصلہ ماحولیاتی ذمہ داری اور انفرادی رازداری کے درمیان ایک نئی بحث کا نقطہ آغاز بن گیا ہے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس (New Indian Express) کے مطابق، ملازمین کی تنظیموں نے اس پر ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انفوسس پائیداری کی رپورٹنگ کے لیے ملازمین کے گھر کی بجلی کے استعمال کا سروے کر رہی ہے (Infosys is surveying employee home electricity use for sustainability reporting)، جو کہ کارپوریٹ کلچر میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ اکنامک ٹائمز (Economic Times) کے مطابق، یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ملازمین اس سروے میں کس حد تک تعاون کرتے ہیں اور کیا کمپنی انہیں اس ڈیٹا کی فراہمی کے بدلے کوئی مراعات فراہم کرے گی یا نہیں۔

