بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں اس وقت شدید ہلچل مچی ہوئی ہے کیونکہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کی جانب سے اڈانی گروپ کے خلاف براہِ راست سمن جاری کرنے کی خبروں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ دی ہندو، انڈین ایکسپریس اور ٹائمز آف انڈیا کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، اس خبر کے منظرِ عام پر آتے ہی اڈانی اسٹاکس (Adani stocks) میں شدید گراوٹ دیکھی گئی، جہاں اڈانی انٹرپرائزز کے حصص 11 فیصد تک گر گئے۔ اس قانونی کارروائی نے گروپ کی مارکیٹ مالیت کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا ہے، جس سے بھارتی مالیاتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
دی ہندو (The Hindu) کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ریگولیٹر (SEC) نے عدالت سے رجوع کیا ہے تاکہ گوتم اڈانی اور ان کے گروپ کو براہِ راست سمن جاری کیے جا سکیں۔ اس اعلان کے فوراً بعد اڈانی اسٹاکس (Adani stocks) میں 13 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے گروپ کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کو صرف ایک دن میں تقریباً 12.5 بلین ڈالرز کا دھچکا لگا۔ انڈین ایکسپریس (Indian Express) کے مطابق، بھارتی وزارتِ قانون نے پہلے ان سمنز کی ترسیل سے انکار کر دیا تھا، لیکن امریکی حکام کی جانب سے اب براہِ راست قانونی راستہ اختیار کرنے کی کوششوں نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کی رپورٹ کے مطابق، اڈانی اسٹاکس (Adani stocks) میں ہونے والی یہ بڑی مندی گروپ کے دس بڑے حصص پر اثر انداز ہوئی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ امریکی عدالتوں میں ہونے والی یہ قانونی کارروائی گروپ کے بین الاقوامی منصوبوں اور مالیاتی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، بھارتی حکومت اور امریکی اداروں کے درمیان اس قانونی کھینچ تان نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت (Sell-off) دیکھنے میں آئی ہے۔
دی ہندو (The Hindu) کے مطابق، اڈانی گروپ نے مسلسل ان الزامات کی تردید کی ہے، لیکن ریگولیٹری دباؤ کی وجہ سے اڈانی اسٹاکس (Adani stocks) پر دباؤ برقرار ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ کے تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جب تک امریکی تحقیقات میں کوئی واضح پیش رفت یا کلین چٹ نہیں ملتی، تب تک حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہے گا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، وزارتِ قانون کی مداخلت اور امریکی عدالت کے ممکنہ نوٹسز نے اس معاملے کو ایک سفارتی اور قانونی پیچیدگی میں بدل دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔
اڈانی گروپ کے لیے یہ ایک مشکل وقت ثابت ہو رہا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کی رپورٹ کے مطابق، اگر امریکی عدالت نے سمن جاری کرنے کی اجازت دے دی تو اڈانی اسٹاکس (Adani stocks) میں مزید گراوٹ کا خدشہ ہے۔ دی ہندو (The Hindu) کے مطابق، گروپ کی جانب سے قانونی دفاع کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔ تاہم، انڈین ایکسپریس (Indian Express) کی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ بین الاقوامی ریگولیٹرز کے ساتھ یہ محاذ آرائی بھارتی کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ایک بڑا سبق ثابت ہو سکتی ہے۔

