China Military Purge: Top General Accused of Leaking Nuclear Secrets to US

China Military Purge: Top General Accused of Leaking Nuclear Secrets to US

چین کی عسکری قیادت میں ایک زبردست ہلچل مچی ہوئی ہے جہاں ملک کے ایک اعلیٰ ترین جنرل پر امریکہ کو ایٹمی راز فراہم کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل، جاپان ٹائمز اور بی بی سی کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، چائنا ملٹری (china military) کے اندر جاری یہ "پاک سازی" (Purge) صدر شی جن پنگ کی جانب سے مسلح افواج پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی ایک کڑی ہے۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بیجنگ اپنی عسکری صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے کوشاں ہے، لیکن کرپشن اور جاسوسی کے الزامات نے پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے مورال اور اندرونی نظم و ضبط پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

Massive shake-up in China’s military as a top general faces nuclear espionage charges. Analyze Xi Jinping's PLA purge, tpo news in urdu

وال اسٹریٹ جنرل (WSJ) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، چین کے ایک سینئر جنرل پر الزام ہے کہ انہوں نے حساس نیوکلیائی معلومات اور میزائل ٹیکنالوجی کے راز امریکی خفیہ اداروں کو منتقل کیے۔ اس انکشاف نے چائنا ملٹری (china military)  کے راکٹ فورس (Rocket Force) کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بی بی سی (BBC) کے مطابق، ان الزامات کے بعد کئی اعلیٰ افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے یا وہ لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جاسوسی کا معاملہ چین کی قومی سلامتی کے لیے حالیہ دہائیوں کا سب سے بڑا دھچکا ہو سکتا ہے، جس سے چین کی دفاعی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔


جاپان ٹائمز (Japan Times) کے تجزیے کے مطابق، صدر شی جن پنگ کی جانب سے عسکری قیادت کی یہ بڑے پیمانے پر تبدیلی محض کرپشن کے خلاف مہم نہیں بلکہ چائنا ملٹری (china military)  کے اندر وفاداری کو یقینی بنانے کا ایک طریقہ ہے۔ جاپان ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ شی جن پنگ کو خدشہ ہے کہ فوج کے اندر موجود بعض عناصر ان کی جارحانہ خارجہ پالیسی کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہٹائے گئے افسران میں وہ لوگ شامل ہیں جو دفاعی خریداری اور نیوکلیائی ہتھیاروں کے پروگراموں کے نگران تھے۔ وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق، بیجنگ اب اپنے پورے عسکری سپلائی چین اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔


بی بی سی (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، چینی وزارتِ دفاع نے ان الزامات پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، لیکن عسکری اخبارات میں "مطلوبہ وفاداری" پر زور دیا جا رہا ہے۔ چائنا ملٹری (china military)  کے اندر جاری اس کشیدگی سے تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین (South China Sea) میں چین کی عسکری حکمتِ عملی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ جاپان ٹائمز کے مطابق، شی جن پنگ کا مقصد ایک ایسی فوج تیار کرنا ہے جو تکنیکی طور پر برتر ہو اور سیاسی طور پر مکمل طور پر ان کے تابع ہو۔ وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس اب چین کے میزائل پروگرام کے حوالے سے ایسی معلومات موجود ہیں جو پہلے کبھی نہیں تھیں۔


چینی عسکری قیادت اس وقت ایک بڑے بحران سے گزر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل (WSJ) کی رپورٹ کے مطابق، نیوکلیائی رازوں کا افشا ہونا واشنگٹن کے لیے ایک بڑی انٹیلی جنس کامیابی ہے۔ چائنا ملٹری (china military)  کے اندر جاری پاک سازی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شی جن پنگ کسی بھی قسم کی غداری یا بدعنوانی کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ بی بی سی (BBC) اور جاپان ٹائمز (Japan Times) کے مطابق، یہ صورتحال نہ صرف چین کے اندرونی استحکام بلکہ عالمی تزویراتی توازن (Strategic Balance) پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔